توانائی بحران کا حل، دیگر منصوبوں وترقی کیلئے ناگزیر

تحریر : ممتاز بیگ

رحیم یارخان

سیس (Cess)،ٹیکس کی ایک قسم جو حکومت کسی خاص منصوبہ، مقصد اور کام کی تکمیل کیلئے رقم اکٹھا کرنے کی غرض سے لگاتی ہے،

یہ نافذ العمل موجود ٹیکسوں کے علاوہ ایک اضافی ٹیکس جسکی وصولی منصوبہ مکمل ہونے پرختم کردی جاتی ہے،فیس وہ رقم جو کسی پیشہ ور شخص یا ادارہ سے رائے یا خدمات حاصل کرنے کے عوض ادا کی جائے،

جبکہ ٹیکس حکومت کی طرف سے عائد کردہ وہ رقم جو لازمی طور پر عام آدمی یا اداروں کی آمدنی یا کاروباری منافع اور چند مخصوص اشیاء کی قیمت میں شامل کرکے یا دیگرخدمات ولین دین پروصول کی جاتی

جسے وہ اپنے روزمرہ اخراجات اور ترقیاتی کام مکمل کرنے پر خرچ کرتی ہے،اسلام میں زکوٰۃ معاشرہ سے غربت کے خاتمہ، صدقہ رضاکارانہ طور پر اللہ تعالیٰ کو خوش اور بلائوں کو ٹالنے،خیرات آخرت کیلئے،عشر کا نظام زرعی پیداوار میں محروم طبقات کے حصہ کے طور پر رکھا گیا ہے۔
گیس انفرا سٹرکچرڈیویلپمنٹ سیس (GIDC) پیپلز پارٹی کی حکومت نے ایک ایکٹ کے ذریعہ25نومبر2011ء کو پارلیمنٹ کی منظوری سے صنعتی شعبہ کے صارفین پر ایران پاکستان گیس پائپ لائن(IP) اورترکمانستان،

افغانستان،پاکستان،انڈیاگیس پائپ لائن(TAPI) ، لیکویفائڈ نیچرل گیس (LNG) اورذیلی ُؒمنصوبوں کیلئے فنڈز اکٹھا کرنے کی غرض سے عائد کیا تھا،

13جون 2013ء کو مسلم لیگ حکومت کے دوران پشاور ہائی کورٹ نے اس لیوی کو خلاف آئین قرار دیتے ہوئے تمام رقم فوری طور پر صارفین کو واپس کرنے کاحکم دیا اور کہا کہ یہ ایک فیس ہے اورٹیکس نہیں جو وصول کیا جا سکے،

درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا تھاکہ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ گیس کے معاملہ میں خود کفیل ہیں، پنجاب میں گیس کی طلب ،رسد سے زیادہ اور انفرا سٹرکچر کی ضرورت بھی.

جس کیلئے کے پی کے صارفین پر اس سیس کا نفاذمناسب نہیں، اس فیصلہ کے خلاف مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی،

22اگست 2014ء کو سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے حکومت پاکستان کی اپیل مسترد کردی۔
جب یہاں سے بھی کوئی ریلیف نہ مل سکا تو حکومت نے بجٹ 2014ء میں ترمیم شدہ ایکٹ 2011ء کی توثیق کرتے ہوئے

24ستمبر2014ء کو ایک اور جی آئی ڈی سی آرڈیننس نمبر VI-2014 جاری اور پھر22مئی2015ء کواسے ایکٹ (IV-2015)کے طور پرنافذ کرتے ہوئے،

ایکٹ 2011ء اور آرڈیننس2014 ء کے تحت صارفین سے وصول شدہ سیس کو قانونی تحفظ بھی فراہم کردیا،

اس سے صنعتی صارفین الجھن کا شکار ہوگئے کہ حکومت نے ابھی تک پہلے سے وصول شدہ سیس کی رقم سے گیس منصوبوں کی تعمیر شروع اور ان پر خرچ نہ کیا ہے،

کھاد بنانے، کمپریسڈ نیچرل گیس (CNG)، کے الیکٹرک، آئی پی پیز و دیگر پھر سے عدالتوں میں پہنچ گئے اوراس ایکٹ کے خلاف حکم امتناعی حاصل کرنے کے باوجود صارفین سے جی آئی ڈی سی وصول کرتے رہے ،

ذرائع کے مطابق اس مد میں صرف غریب کسانوں کو 100ارب روپے سے زائدادا کرنا پڑے جبکہ گیس مہیا کرنے والے بڑے اداروںسوئی سدرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ(SSGPL)،

پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ(PPL)،آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ(OGDCL) ، ماڑی گیس کمپنی لمیٹڈ(MGCL) اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمٹیڈ(SNGPL) نے جولائی2014ء سے اپنے صنعتی صارفین سے اس سیس کی وصولی روک دی تھی،

آٹھ سال سے عدالتوں میں جاری مقدمات اور حکم امتناعی کے باعث جنوری2012ء سے دسمبر 2018ء تک کے بقایا417 ارب روپے سیس کی وصولی میں رکاوٹ اورجون 2019ئتک 36ارب روپے کے گردشی قرضوں سے نجات کیلئے حکومت کی معاشی ٹیم کی تجویز پر وزیر اعظم کی منظوری اور سفارش کے بعد صدر پاکستان نے28اگست2019ء جی آئی ڈی سی ایکٹ 2015میں ایک صدارتی حکم کےذریعہ جی آئی ڈی سی ترمیمی آرڈیننس 2019نافذ کردیا

جس کے مطابق 80سے زائدصنعتکاروں کھاد فیکٹریوں کے مالکان،پاور سیکٹر بشمول آئی پی پیزو دیگر صنعتی صارفین کو 50فیصد سیس یعنی220 ارب روپے کی اصل رقم جو مارک اپ سمیت 300ارب روپے بنتی ہے معاف اورسات سال کے لیٹ پیمنٹ چارجز بھی رائٹ آف کردئے کہ وہ مختلف عدالتوں میں زیر سماعت حکومت کے خلاف اپنے تمام مقدمات اور اپیلیں واپس لے لیں گے،

لیکن میڈیا اور اپوزیشن کے شور اور دبائو پر حکومت کویہ آرڈیننس4ستمبر2019ء کو واپس لینا پڑا،یہاں یہ امر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ 1971ء تا2009ء کے 58سالوں میں سابقہ حکومتوں کے کل معاف کئے گئے قرضوں کی رقم 256ارب روپے بنتی ہے اوراس ایک آرڈیننس کے ذریعہ 300ارب روپے معاف کردئے گئے،

آرڈیننس کی واپسی کے بعد وزیر اعظم کی ہدائت پر اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں ان مقدمات کی جلد سماعت کی استدعا جمع کرائی ۔

سیاسی عدم استحکام،معاشی بدحالی،دہشت گردی، بین الاقوامی قرضوں کے بوجھ اور پانی کی کمیابی کے بعد پاکستان کاسے بڑا مسئلہ توانائی بحران کے اژدھا کا سامنا ہے،

وطن عزیز کو گیس کے حصول اور فراہمی کیلئے چین ، روس، ایران، امریکہ، برطانیہ،بعض عرب ممالک اور ہندوستان کی اپنی اپنی ترجیحات ہیں،صنعت، تجارت، زراعت، ٹرانسپورٹ، گھریلو ضروریات، انفراسٹرکچر سمیت دیگر ہر قسم کی پیداواری سرگرمیوں اور معیشت کا پہیہ چلانے کیلئے توانائی کی مسلسل فراہمی ناگزیر ہے،

اسی پس منظر میں تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے 20 فروری2020ء کو دو ہفتوں کیلئے محفوظ کئے گئے فیصلہ کو کھلی عدالت میں 13اگست 2020ء کوسناتے ہوئے

جی آئی ڈی سی ایکٹ 2015کے نفاذ کوکو ملکی آئین کے مطابق قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ31دسمبر2018ء تک 417 ارب روپے کی واجب الوصول رقم 24اقساط میں یکم اگست2020ء سے وصول کی جائے ،

اگر نارتھ سائوتھ پائپ لائن، ایران پاکستان پائپ لائن اورتاپی گیس پائپ لائن منصوبوں پر مقررہ وقت)چھ ماہ) میں کسی بھی وجہ سے کام شروع نہ کیا جاسکے تو یہ سیس ختم، ایکٹ پر عمل درآمد روک اور ہمیشہ کیلئے جامدو مردہ تصور کیاجائے،

مزید برآں جب تک واجب الوصول سیس کی ریکوری اور 2015ء کے جی آئی ڈی سی ایکٹ سیکشنIV میں درج منصوبوں پر خرچ نہ ہوجائے فوری طور پر گیس سیس کی مزید وصولی روک دیجائے،

یہ حکم بھی دیا کہ حکومت پاکستان نارتھ سائوتھ پائپ لائن اورتا پی گیس پائپ لائن منصوبوں پر کا م شر وع کرنے اور دیگر اموربارے تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائے او ر اس فیصلہ کی نظر ثانی کی اپیلوں پرفیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے 2نومبر2020ء کو 85 ٹیکسٹائل ملز،کاٹن ملز، شوگرملز، سرامک اور کیمیکلز کمپنیوِں، سی این جی فلنگ سٹیشنز، ماچس اور سیمنٹ فیکٹریوں، اور ایلو مینم انڈسٹریز کی جانب سے جی آئی ڈی سی عائد کرنے کے فیصلہ کے خلاف نظرثانی کی تمام107 درخواستیں بھی مسترد کردیں۔
30جون2019 ء تک قابل وصول712ارب روپے سیس میں سے295ارب روپے کمپنیاں پہلے ہی وصول اور حکومت کے خزانہ میں جمع کراچکی ہیں اور باقی قابل وصول رقم417ارب روپے بڑھ کر 30جون 2020ء تک523.60 ارب روپے ہو چکی ہے،

سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں24 برابرماہانہ اقساط میں سے یکم اگست2020ء سے شروع ہونے والی 20.5 ارب روپے کی پہلی ماہانہ قسط 30ستمبر2020ء تک جمع ہوناتھی اس میں سے صرف 3.25ارب روپے ہی وصول کئے جا سکے،

توانائی اور گیس بحران سے وطن عزیزکومستقل طور محفوظ، کاروبار، روزگار اور معیشت کی تسلسل کے ساتھ ترقی اور رواں دواں رکھنے کیلئے گیس سیس کی وصولی ناگزیر،

لہذاہمارے صنعتی صارفین ودیگر تمام متعلقہ اداروںکو خوشدلی اور قومی جذبہ کے ساتھ اسکی وصولی ، خزانہ میں جمع اور ایمانداری سے خرچ کرنے کو یقینی بنانا ہوگا ۔

اک نظر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button