مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الااللہ

اکرام شاہ

مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الااللہ :
عثمان مرزا جیسے معاشرے میں انسانی بھیڑیے کیسے پیدا ہؤے اس کے اصل مجرم کون ہیں ۔ ہمارے معاشرے کے نام نہاد جعلی سیاسی کارکنوں کے روپ میں جرائم پیشہ افراد ! تھانوں کے چٹی دلال : پولیس کے لاڈلے چٹی دلال :
مل کر جہاد کا آغاز کریں چٹی دلال مافیا کے خلاف + پراپرٹی کا کاروبار دکھا کر دراصل قبضہ مافیا کے خلاف + معاشرے میں بچوں کے ساتھ بدفعلی کرنے والے جانوروں کے خلاف + منشیات فروش سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے خلاف ۔ تھانوں میں رشوت دینے کو اپنا کاروبار بنانے والے چٹی دلال کے خلاف جہاد ۔

آپ کو میرے ساتھ ملے کر ظلم کے خلاف جہاد کرنا ہو گا ۔ چٹی دلال ۔ منشیات فروشوں ۔ قبضہ مافیا کے خلاف ۔ جرائم پیشہ افراد کے خلاف ۔ رشوت خور سرکاری افسروں کے خلاف ۔ سرکاری نوکری کرنے والا کوئی بھی ملازم ہو اگر وہ رشوت خور ہے بدعنوانیوں میں ملوث ہے اور زخیرہ اندوز مافیا ۔ جعلی پٹرول مافیا ۔ چینی چور مافیا ۔ آٹا چور مافیا ۔ ان سب کے خلاف جہاد کرنے میں میرا ساتھ دینا ہو گا ۔ سب سے زیادہ پولیس کے چٹی دلال افراد کے خلاف جو تمام سیاسی جماعتوں میں اگے آگے نظر اتے ہیں ۔ جو میڈیا میں بہت بڑے ترم خان بنتے ہیں ان سب بلیک میلنگ مافیا کے خلاف اور وہ وکلاء بھی جو ناجائز طور پر ان چٹی دلال افراد کے ساتھ مل کر اپنا مفاد حاصل کرتے ہیں ان کو بھی بےنقاب کرنا جہاد ہے ۔
اپنی آواز ظلم کے خلاف اور منافق سیاسی لیڈروں اور وہ مولوی ہو یا ماسٹر یا کوئی دکاندار کوئی بھی ہو جو بچوں کے ساتھ بدفعلی کرتا ہے اور وہ جو چٹی دلال افراد جو اپنے آپ کو عوامی نمائندہ کہتے ہیں ایسے سیاسی اور سماجی ورکر جو دراصل منشیات فروش ہیں قبضہ مافیا ہیں اور جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کرتے ہیں ۔ ایسے سیاسی نمائندے اور عوامی نمائندے کے خلاف آپ آپنی آواز بلند کریں یہ جہاد ہے ۔ آج بھی آپ اگر ۔۔۔ تھانوں سے بدنام زمانہ افراد اور انتشار پیدا کرنے والے افراد چٹی دلال افراد رحیم یار خان شہر کے پچلے پانچ سے دس سالوں کی لسٹیں جو جاری کی گئیں مختلف DPO کے ادوار میں دیکھیں تو سب معلوم ہو جائے گا ۔
ان افراد کی لسٹیں تھانوں میں لگائی گئیں تھیں ۔ ان کا تھانوں میں داخلہ بند کیا گیا تھا وہ کون تھے ؟؟ ۔ ان میں کون کون سے نام تھے ۔ کونسلر تھے ۔ سیاسی جماعتوں کے کارکنان تھے ۔ جرئم پیشہ افراد تھے ۔۔ ان کے نام آج بھی شامل ہیں ۔ کچھ نے تو لاکھوں روپے رشوت دے کر اپنے نام ان لسٹوں میں سے نکلوا لیا ہے ۔
۔ایسے پولیس افسر جس نے چٹی دلال دوستوں کو کھول کر چٹی رشوت خوری کا کاروبار منشیات کا کاروبار چالو رکھنے کی کھلی چھوٹ دی ہوئی ہوئی ہے ۔آیسے پولیس اہلکاروں کے خلاف آواز بلند کرنا بھی جہاد ہے ۔ جو قانون سے بالاتر سمجھتے اپنے آپ کو ۔ ان کا احتساب لازمی ہونا چاہیے ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ کیونکہ یہ جو نام نہاد سیاسی جماعتوں کے کارکنان نام نہاد سیاسی لیڈر شہر کے تمام تھانوں میں جو چٹی دلال اعلیٰ ہیں ۔ جس کی وجہ سے شہر میں جرائم پیشہ افراد کی حکمرانی کرتے ہیں اور یہ لوگ ان جرائم پیشہ افراد کے ساتھی جو ساتھ ساتھ اپنے آپ کو سیاست دان ۔ عوامی نمائندہ ۔ سماجی ورکر ۔ جبکہ یہ قبضہ مافیا۔ منشیات فروش ۔ جرائم پیشہ افراد کے ساتھی اور خود بھی منشیات فروش ہیں بس خود سیاست میں اور ان کے کارکنان منشیات اور قبضہ مافیا کے کاروبار میں اگے آگے جس کا ان کو برابر کا منافع بخش حصہ بدستور ملتا ہے ۔ یہ ایک کینسر کی بیماری ہے جو ہمارے معاشرے کو ختم کر چکی ہے ۔۔ کیا آپ بھی ان کے ساتھیوں میں تو شامل نہیں ؟؟ کیا آپ تو ان کو ووٹ نہیں دیں گے ان بلدیاتی الیکشن میں۔ ؟؟
کیا اس بار بھی بلدیاتی الیکشن میں وہی لوگ الکشن لڑیں گے جن کے نام شہر کے تمام تھانوں کی لسٹوں میں ہیں ۔ اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں ۔
جن کے ناموں کی لسٹ شہر کے تمام تھانوں کے چٹی دلال کے فہرست میں شائع ہو چکے ہیں ۔
جو آج بھی جوے کے اڈّے اور شراب اور منشیات فروش ہیں کیا وہی لوگ بلدیاتی انتخابات میں الیکشن لڑیں گے ۔ کیا جو گلی محلے کے غنڈوں کے سرغنہ ہیں وہی الکشن کمپین چلائیں گے ۔ جن کو تھانے سے ڈر لگتا ہے جن پر پرچے ابھی باقی ہیں ان کو گرفتاری کا خوف دے دے کر یہ نام نہاد سیاسی جماعتوں کے لیڈران اپنے الکشن کی دن رات کمپین کرواتے ہیں ان ڈرے ہوئے کارکنان بچاروں کی امید کا آخری سہارا بن کر یہ ان کی زندگیوں کو ختم کر دیتے ہیں اور یہی الکشن امیدوار جو ایک چٹی دلال بھی ہے ان کارکنان پر پولیس کا خوف قائم رکھتا ہے ۔ کیا اس بار بھی بدمعاشی میں قبضہ مافیا ۔ بدمعاشی مارکٹائی کا خوف ۔ فائرنگ اسلحہ اور منشیات سب کچھ یہ الکشن کے امیدوار جو مجرمانہ سرگرمیوں میں خود بھی ملوث ہیں اور ان کے بہت سے سپورٹرز بھی جرائم پیشہ عناصر ہیں جن کا پیشہ منشیات و اسلحہ اور جوئے کے اڈے چلانا ہے یا سود پر پیسہ چلانا ہے کیا یہی لوگ بلدیاتی الیکشن میں حصہ لیں گے ۔ ؟؟؟؟
کیا منشیات فروش ۔ جوے کے اڈے چلانے والے ۔ چٹی دلال کونسلر بنیں گے ۔ ؟؟؟ جن کا داخلہ شہر کے تھانوں میں سرکاری دفتروں میں بند کیا گیا تھا ۔ ان کی لسٹیں جاری کی گئی تھی ۔ وہی لوگ بلدیاتی الیکشن لڑیں گے ایک بار پہر سوچیں ؟؟؟ کیا آپ ان ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے میں ساتھ دیں گے ؟؟ ایک بار پہر سوچیں یہ بہت چالاک بھی اور جھوٹوں کے خدا ہیں ۔ کسی پر کوئی بھی جھوٹا الزام لگا کر دنیا کے سامنے اس کو بدنام کرنے کے ماہر ہیں یہ سب لوگ آپ کی پیٹھ پر خنجر مارنے کے ماہر ہیں یہ سب ۔
ایک پہر سوچ لیں مجھے پیسے سے نہیں موت سے پیار ہے ۔ مجھے موت سے کبھی خوف نہیں آیا ۔ ایک بار پہر سوچ لینا میرا ساتھ دینے سے پہلے ۔۔ میں انسانیت کے دشمنوں کے خلاف آواز بلند کرنے جارہا ہوں ۔۔ سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے ۔ سب کو ایک ہونا ہو گا ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے ہم سب کو ایک بار مل کر جہاد کرنا ہو گا ۔

اک نظر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button