ریاست بہاولپور

Bahawalpur
ریاست بہاول پور کا قیام

 

ضلع رحیم یار خان ابتدائے آفرینش سے ہی سیاسی نشیب و فراز کا شکار رہا ہے ریاست کے قیام سے قبل صادق آباد کا بیشتر حصہ خدا یارخان کلہوڑا کے قبضے میں تھا ، جبکہ ڈیراور ، کارداری خان پور اور صادق آباد کا جنوبی چولستانی علاقہ راجہ جیسلمیر کے قبضے میں تھا ، بہاولپور کا کافی حصہ اور اوچ ملتان کے پایہ تخت کے نیچے تھا ۔

شہر فرید پر فرید خان لکھویرا کی حکومت تھی جبکہ سترھویں صدی کے قریب منچن آباد کے اکثر وٹو صاحبان دہلی کے دربار سے منسلک تھے کچھ شہر فرید سے منسلک تھے ۔

رحیم یار خان کے کچھ قلعے ولہار ، پھلری اور امان گڑھ سے ملحقہ علاقے بیکانیر کے راجہ زوار سنگھ کے قبضے میں تھے ۔۔(1748 – 1719) مغلیہ حکومت کے دور زوال میں محمد شاہ رنگیلا کے عہد میں پہلے عباسی فرمانروا نواب صادق محمد خان اول اوچ کے بخاری اور مخادیم کے کہنے پر بیٹ دبلی (ڈیرہ غازی خان ) سے نقل مکانی کرکے اوچ میں سکونت پذیر ہوگئے تھے

سٹیٹ گزٹیئر 1904 ءکے مطابق کچھ عرصہ بعد 1729ءمیں نواب حیات اللہ خان نے نواب صادق محمد خان کو چودری (موجودہ لیاقت پور ) کا علاقہ بطور جاگیر دیا اورپھر نواب صادق نے یہاں الہ آباد شہر کی بنیاد رکھی شہر رحیم یارخان پھل وڈا کے نام کی ایک بستی ٹیلے پر آباد تھی (جہاں اب صدر بازار آباد ہے ) عباسیوں کی ریاست بہاولپور کا قیام بنیادی طور پر ضلع رحیم یار خان میں عمل میں آیا ۔

پھر نواب حیات اللہ خان کے ایما پر 1733 ءمیں فرید خان لکھویرا سے شہر فرید کا علاقہ چھین لیا اور اس پرنواب حیات اللہ خان سے حکومت کرنے کا پروانہ حاصل کرلیا ۔ پھر نواب صادق محمد خان نے 1734 ءمیں راول اگھی سنگھ سے ایک سازش سے قلعہ دراوڑ چھین لیا ۔اور اپناقبضہ جمالیا 1742 میں افغانستان کے نادر شاہ درانی نے ڈیرہ جات (ڈیرہ غازی خان اور ڈیرہ اسماعیل خان ) پر حملہ کیا تو نواب صادق اس سے ڈیرہ غازی خان جاکر ملے اور اسکی رائے اپنے حق میں کرلی پس اس نے ان مقبوضات پر امیر صادق محمد خان اول کا اقتدار تسلیم کرتے ہوئے نواب کا خطاب دیا اپنے زیر اثر سندھ کے ان علاقوں کو اس طرح تقسیم کیا ۔

۔          میاں نور محمد عرف خدا یار خان عباسی کلہوڑا کو شاہ قلی خاں کا خطاب دےکر ٹھٹھہ اور سندھ کے دوسرے ” محال ” اس کے حوالے کردئے ۔

۔         امیر صادق محمد خان کو شکار پور ، پرگنہ لاڑکانہ ، سےوستان ، چھتار ، کے علاوہ چودری (لیاقت پور )اور ڈےراور کے علاقے حوالے کئے

            نادر شاہ درانی کے جانے کے چھ سال بعد ہی خدایار خان عباسی کلہوڑا نے 1746-47 ءمیں شکار پور کا محاصرہ کرلیا جس میں صادق محمد خان نے حفظ ناموس کی خاطر اپنی تمام مستورات کو قتل کیا اور مقابلہ کے لئے باہر نکلا اور گولی کا نشانہ بن گیا اور یوں ریاست بہاولپور کا حقیقی بانی قیام ریاست بہاولپوکے آغاز میں ہی اپنی جان سے کھیل گیا

 ولی عہد نواب بہاول خان جو کمک لے کر آرہاتھا خبر سنکر واپس چودری چلا آیا نواب بہاول خان نے دریائے ستلج سے تین میل کے فاصلے پر ایک کچی فصیل تعمیر کرکے شہر بہاولپور کی بنیادرکھی اور اس طرح ریاست بہاولپور کے قیام کی تکمیل ہوئی ۔ نواب بہاول خان اول کے دور میں کئی ایک قصبات اس کے سرداروں نے بنائے جس میں ترنڈہ علی مراد، بہادر پور (چوک بہادرپور ) شہباز پور ۔ 4سال 3 ماہ حکومت کرنے کے بعد نواب بہاول خان فوت ہوا ۔

            نواب بہاول خان اول کے بعد نواب محمد مبارک خان نے زرعی اصلاحات کیں جن کی وجہ سے ریاست کی آمدن میں اضافہ ہوا۔ نواب نے ریاست کی حدود میں اضافہ کی بھی کوشش کی ۔ 1753 ءمیں حاجی اختیار خان نے گڑھی شادی خان جو خانپور کی کارداری میں واقع تھا اور نورمحمد کلہوڑا کے زیرنگین تھا کو اپنے قبضے میں لیا اور اس کانام گڑھی اختیار خان رکھا اور وہاں سے ایک نہر نکالی جس کا نام اختیار واہ رکھا ۔

قلعہ اسلام گڑھ جس کا اصل نام بھیم نواب بہاول خان اول کے بعد نواب محمد مبارک خان نے زرعی اصلاحات کیں جن کی وجہ سے ریاست کی آمدن میں اضافہ ہوا۔ نواب نے ریاست کی حدود میں اضافہ کی بھی کوشش کی ۔

1753 ءمیں حاجی اختیار خان نے گڑھی شادی خان جو خانپور کی کارداری میں واقع تھا اور نورمحمد کلہوڑا کے زیرنگین تھا کو اپنے قبضے میں لیا اور اس کانام گڑھی اختیار خان رکھا اور وہاں سے ایک نہر نکالی جس کا نام اختیار واہ رکھا ۔ قلعہ اسلام گڑھ جس کا اصل نام بھیم وار تھا۔

1608 میں بھیم سنگھ نے تعمیر کروایا تھا حاجی اختیار خان نے ہی قلعے کے دو افسروں کو لالچ دے کر یہ قلعہ اپنے قبضے میں لیا اور نقلی کنگن ان افسروں کو تھما دئیے اور اس قلعہ کانام اسلام گڑھ رکھا ۔

نواب نے راجہ بیکانیر سے تاڈا ولہر ( کوٹ ولہار ) پٹہ پر لیا اور وہاں قلعہ تعمیر کرنے کی وجہ سے راجہ گج سنگھ سے لڑائی ہوئی جس میں نواب کو فتح ملی ۔ اور یوں ولہار ان کے قبضے میں آیا ۔ 1759 میں سردار احمد خان نے احمد پور غربیہ یعنی لمہ کے قصبے کی بنیاد رکھی ایک نالہ احمد واہ تیار کروایا ۔

احمد پور لمہ اس وقت صادق آباد تحصیل میں واقع ہے ۔ نواب محمد مبارک خان کے دور حکومت میں سردا ر منٹھار خان نوہانی نے مڈ منٹھار کا قصبہ آباد کیا ۔ جو اب ضلع رحیم یار خان میں واقع ہے نواب محمد مبارک خان 24 سال حکومت کرنے کے بعد 1772ءکو لاولد فوت ہوا ۔

            خوانین داﺅدپوترہ نے نواب کے بھتیجے صاحبزادہ جعفر خان کو بہاول خان دوئم کے لقب سے نوازتے ہوئے مسند بہاولپور پر بٹھایا ۔ یہ زمانہ برصغیر پر بےرونی حملہ آوروں کی یلغار اور اندرونی انتشار کا تھا جس سے ریاست بہاولپور بھی متاثر ہوئے بغےر نہ رہی ۔ قلعہ رکن پور کو اپنے قبضے میں لیا جس کو 1776ءمیں بنوایاتھا ،

قلعہ اوچ ، ساہنوالہ اور قلعہ نوشہرہ (موجودہ شہر رحیم یار خان ) کی تسخیر نواب کے حکم پر نصیر خان گورگیج نے کی جبکہ ایک سخت مقابلے کے بعد گڑھی اختیار خان کو بھی حاجی اختیار خان سے نصیر خان گورگیج نے حاصل کیا کوٹ سبزل خان جو اس وقت ضلع رحیم یار خان کی سندھ کی جانب سے سرحد ہے کے قلعے پر بھی نواب بہاول خان دوم نے قبضہ کیا ۔

1802 میں کابل کے بادشاہ شاہ محمود سے اجازت لے کر نواب نے چاندی اور تانبے کا سکہ جاری کیا جس کے ایک طرف شاہ محمود اور دوسری طرف دارالسرور بہاولپور لکھا ہواتھا ۔ نواب بہاول خان دوئم نے 37 سال حکومت کی اور 1809 ءمیں وفات پائی ۔

            اس کے بعد عبداللہ خان عباسی نے ، نواب صادق محمد خان دوئم کے لقب سے 1809 میں بہاولپور کی ریاست کا نظام سنبھالا ۔ اس کے دور حکومت میں ضلع رحیم یار خان میں کوئی خاص ترقی نہ ہوئی یا کوئی خاص واقعہ نہ ہوا سوائے اس کے کہ نواب کو مختلف سازشوں اور وفاداروں کی دشمنیوں کا سامنا کرنا پڑا ۔

نصیر خان گورگیج جو مدارلمہام کے درجے پر فائز تھا کو بھی نواب نے معمولی سا بہانہ بنا کر قتل کردیا ۔ نواب صادق محمد خان دوئم کی وفات 1825 ءمیں ہوئی اور صاحبزادہ رحیم یار خان ، نواب بہاول خان سوم کے خطاب سے بہاولپور کا حکمران بنا ۔ اس کے ابتدائی دور میں ریاست کی حدود میں کمی واقع ہوئی ۔

جو راجہ رنجیت سنگھ نے کی ۔ ان حالات میں نواب بہاول خان سوم کے لئے کوئی اور چارہ کار نہ تھا اس لئے ایسٹ انڈیا کمپنی سے معاہدہ کرکے ریاست کو بےرونی حملہ آوروں سے بچایا ۔ یہ ریاست اب دریائے ستلج کے اس پار محدود ہوکر رہ گئی تھی ۔

            اس معاہدے سے ایسٹ انڈیا کمپنی کو دریائے سندھ اور دریائے ستلج کے راستے تجارت کی آسانی حاصل ہوئی ۔ یہ معاہدہ 1833 میں قرار پایا جس میں طے ہواکہ نواب صاحب اپنے انتظامات ملکی مےں خودمختار رہیں گے ۔ اس کے بعد ایک اور معاہدہ 5 اکتوبر 1838 کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے مابین ہوا جس میں طے ہوا کہ نواب اور اسکے ورثاءاور جانشین انگریز سرکار کے تابع حکم رہیں گے ۔

1833 ءکے چودہ نکاتی معاہدے کے تحت ریاست میں انگرےزوں کا عمل دخل شروع ہوا تو انتظامی سطح پر لائی جانے والی تبدیلیوں اور منصوبوں کے اثرات اس علاقے پر بھی مرتب ہوئے یہاں کے معاشرتی اور تہذیبی ڈھانچے میں غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہوئیں ۔ برصغیر کی تحریک آزادی اور دیگر واقعات سے یہ علاقہ بھی بالواسطہ اور بلا واسطہ متاثر ہوا ۔

  نواب صادق سوم کے خلاف بغاوت کرکے نواب حاجی خان عرف فتح خان بہاولپور کا نواب بنا جبکہ نواب صادق محمد خان سوم کو قید میں ڈال دیا ۔ اس دور میں بھی کوئی خاص ترقی یا واقعہ پیش نہ آیا ۔ ساڑھے پانچ سال حکومت کے بعد حاجی خان مرگیا ۔ جس کے بعد اس کا صاحبزادہ رحیم یار خان نواب بہاول خان چہارم کے لقب سے تخت بہاولپور پر مسند نشین ہوا ۔

اس کا دور حکومت ء1855 ءتا 1866ئ ہے اس عرصہ میں شورشیں اور دشمنیاں جاری رہیں ۔ نواب کے مرنے کے بعد اس کا بےٹا نواب صادق محمد خان چہارم جوساڑھے 4 سال کاتھا، وارث حکومت قرار پایا ۔ اس کی ماں نے برطانوی حکومت سے مداخلت کی درخواست کی انگریز کی جانب سے ایک کونسل آف ریجنسی تشکیل دی گئی جس کے صدر سر رحیم بخش تھے ۔

انگریز حکومت نے اس دوران تیرہ سال ریاست کا انتظام اپنے ہاتھ میں رکھا نواب کی تعلیم کا بندوبست کیا ۔ یہ دور ریاست میں تعمیر و ترقی کا دور تھا اس دور میں ریاست میں ڈیڑھ سو میل لمبی ریلوے لائن تعمیر کی گئی ۔ اس دور میں چولستان کو آباد کرنے کی کوشش کی گئی ۔ جس کا زیادہ حصہ ضلع رحیم یار خان میں موجود ہے ۔

نواب نے اس ریاست کو جدید خطوط پر استوار کیا ریاست میں محکمہ مال ، جنگلات تعمیرات ،انہار ، تعلیم ، صحت، پولیس ،فوج ، جوڈیشل ، میونسپل اور خزانہ و حسابات کے الگ الگ محکمے قائم کئے مالیہ کی وصولی ، رجسٹری اسٹامپ اور تصریفات کے الگ الگ شعبے قائم کئے ۔غرض یہ چھوٹی سی ریاست انتظامی اصلاحات کی وجہ سے برطانوی نظم و نسق کی آئینہ دارتھی روزنامہ صادق الاخباراسی دور میں جاری ہوا۔نواب صادق خواجہ غلام فرید ؒسے بھی عقیدت رکھتا تھا نواب نے ججہ عباسیاں میں ایک محل بھی تعمیر کروایا۔ نواب کی وفات 1899ءمیں ہوئی ۔

ء1871میں ضلع رحیم یار خان د و نظامتوں ، چھ کارداریوں اور متعدد پےشکاریوں میں تقسیم تھا

نظامت نوشہرہ )موجودہ رحیم یار خان )

کارداری نوشہرہ )پیشکاریاں : نوشہرہ، محمدپور،آباد پور ، لکی واہ )

کارداری احمد پور لمہ )پیشکاریاں : احمد پورلمہ ، بھونگ ،کوٹ سبزل، سنجر پور )

کارداری کوٹ سمابہ )پیشکاریاں: کوٹ سمابہ ، حاجی پور ،غوث پور، جلال پور)

کارداری صادق آباد )پیشکاریاں:صادق آباد، سارنب ، داعو والا ، ولہار، پلو شاہ )

نظامت خان پور )ضلعی ہےڈکوارٹر)

کارداری خانپور )پیشکاریاں : خانپور، جام پور ، نور واہ ، لعل واہ ، غازی پور)

کاردار ی شےدانی ) پیشکاریاں : شیدانی، فتح پور ، ٹھل واہ ، خان بےلہ )

کارداری الہ آباد )پیشکاریاں : الہ آباد، نائین والا ، سےم پور ، ڈنڈن اوٹ ، پکالاڑاں ، گرڈ والا ، چارکونی)

نوٹ : نظامت آج کل کے ضلع کے درجے پر تھی اور کارداری تحصیل جبکہ پیشکاری سب تحصیل ہوتی تھی

            نواب کے بعد محمد مبارک خان نے نواب بہاول خان پنجم کے خطاب کے ساتھ 1903ءمیں اقتدار ریاست کے قائم مقام منتظم کرنل ایل جیایچ گرے سے لیا ۔ نواب نے 1907 ءتک حکومت کی ۔

اس دوران خانپور تا چاچڑاں شریف ریلوے لائن کامنصوبہ تیار ہوا ۔نواب بہاول خان پنجم کے انتقال 1907 ءکے بعد ولی عہد صادق محمد خاں عباسی پنجم کو ریاست کا نواب مقرر کر دیا گیا۔

اس وقت اس کی عمر صرف تین برس تھی ۔لہذا ایک کونسل آف ریجنسی مقرر کی گئی جس نے1907ءسے924 1ءتک انتظامی معاملات کو چلایا۔1924 میں صادق محمد خان نے اکیس برس کی عمر میں حکومت سنبھالی۔

             ء1947ریاست بہاول پور کا الحاق پاکستان سے ہو گیا اور نواب صادق محمد خاں بدستور حکمران اعلیٰ رہے۔1956 ءمیں ریاست بہاول پور کو پنجاب میں ضم کر دیا گیا
اور عباسی نوابو ں کا دور ختم ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی ضلع رحیم یار خان پنجاب کا ایک ضلع بن گیا۔

Back to top button
Translate »
Close
Close