fbpx
قومی

آرمی چیف کی ملازمت کے قواعد بنانے سے بہت سی تاریخی غلطیوں کو درست کیا جا سکتا ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

چیف جسٹس جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ آپ جس قدر بھی طاقت ور کیوں نہ ہوں قانون آپ سے بالاتر ہے۔ آرمی چیف کے آئینی عہدے کی مدت کو ریگولیٹ کیے بغیر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

فیصلے میں سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ پارلیمان آرمی چیف کے عہدے کی مدت کا تعین کرے۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کو قانونی حمایت حاصل نہیں۔ قانون اور آئین میں مدت ملازمت میں توسیع کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے 43 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا جب کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے دو صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ تحریر کیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اب معاملہ پاکستان کے منتخب نمائندوں کے پاس ہے۔ پارلیمان آرمی چیف کے عہدے کی مدت کا تعین کرے۔ منتخب نمائندے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق قانون سازی کریں۔

فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ یہ یاد رکھیں کہ ادارے مضبوط ہوں گے تو قوم ترقی کرے گی۔ کیس کا بنیادی سوال قانون کی بالادستی کا تھا۔ یہ معاملہ پاکستان کے منتخب نمائندوں کی طرف ہے۔

فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل نے یقین دلایا کہ آرمی چیف کے تقرر کے عمل کو قانونی شکل دی جائے گی اور وفاقی حکومت نے آرمی چیف کی تقرری کی قانون سازی کے لیے 6 ماہ مانگے ہیں۔ وفاقی حکومت آرمی چیف کی سروس سے متعلق قواعد و ضوابط طے کرے۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں یہ بھی حکم دیا ہے کہ وفاقی حکومت ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت آرٹیکل 243 کے دائرہ کار کا تعین کرے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کی بطور آرمی چیف نئی تقرری چھ ماہ کے لیے ہوگی اور ان کی موجودہ تقرری بھی مجوزہ قانون سازی سے مشروط ہوگی۔ قانون نہ ہونے سے جنرل باجوہ کی مدت ملازمت پر غیر یقینی دور کرنے کے لیے ایسی پریکٹس کی جا سکتی ہے اگر پارلیمان آئندہ چھ ماہ میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی تعیناتی سے متعلق قانون سازی نہ کرسکی تو چھ ماہ بعد جنرل قمر جاوید باجوہ ریٹائرڈ تصور ہوں گے۔ نئی قانون سازی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت کا تعین کرے گی۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ جنرل کی مدت ملازمت اور ریٹائرمنٹ قانون میں متعین نہیں۔ اداروں کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے۔

فیصلہ میں آرمی ایکٹ کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ آرمی ایکٹ زیادہ تر کورٹ مارشلز اور سزا و جزا سے متعلق ہے۔ صرف تین ابواب میں ملازمت سے متعلق امور پر بات کی گئی ہے۔ اس میں باقی افسران تو شامل ہیں لیکن آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق آرمی ایکٹ میں کچھ نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں 18 آئینی عہدوں پر تعیناتی اور ان کی مدت ملازمت سے متعلق تفصیل بھی شامل کی ہے لیکن اس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس اسٹاف اور سروسز چیفس کی مدت ملازمت شامل نہیں ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فیصلے کے آخر میں اضافی نوٹ میں 1616 میں چیف جسٹس آف انگلینڈ کے فیصلے کا ریفرنس دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آرمی چیف کی ملازمت کے قواعد بنانے سے بہت سی تاریخی غلطیوں کو درست کیا جاسکتا ہے۔ قواعد بنانے سے عوام کے منتخب نمائندوں کا اقتدار اعلیٰ مضبوط ہوگا۔

چیف جسٹس نے اضافے نوٹ میں کہا ہے کہ آپ جس قدر بھی طاقت ور کیوں نہ ہوں قانون آپ سے بالاتر نہیں ہیں۔ آرمی چیف کے آئینی عہدے کی مدت کوریگولیٹ کیے بغیر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مخصوص تاریخی تناظر میں آرمی چیف کا عہدہ کسی بھی عہدے سے زیادہ طاقت ور ہے۔ آرمی چیف کا عہدہ لامحدود اختیار اور حیثیت کا حامل ہوتا ہے اس لیے غیر متعین صوابدید خطرناک ہوتی ہے۔

rahimyarkhan#

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close