ترقی کا سفر ، مگر حائل ہیں گٹر | فرحان عامر

ترقی کا سفر ، مگر حائل ہیں گٹر

فرحان عامر

دو بچوں کی باپ سمیت موٹر سائیکل پر کھلے مین ہول میں گر کر ہلاکت پر دل بہت افسردہ ہے ، ابھی تو ہم ٹبہ غریب شاہ کے نو سالہ محمّد حسین کی گٹر پر ڈھکن نہ ہونے کے باعث معصوم موت کو نہیں بھولے کہ اس واقعہ نے پورے شہر کو پھر سوگ میں ڈال دیا محکموں کی کارکردگی پر لوگ غم و غصہے کا اظہار کرتے نظر اتے ہیں پورے پاکستان میں گٹروں میں گر کر بچوں کی ہلاکت کے واقعات میں رحیم یار خان سر فہرست ہو گا کیونکہ ایک سال میں سات بچوں کی ہلاکت اور متعدد زخمی ہوئے کبھی میگا سیوریح کی مین لائن میں کار کا گرنا بلکہ موٹر سائیکلوں کا گرنا معمول بن گیا اور ٹریکٹر ٹرالی کو بھی دھنستے ہوئے نیازی کالونی میں نےخود دیکھا ،

یہ ناکام میگا پروجیکٹ شہروں کے لیے عذاب سے کم نہیں سڑکیں دھنس رہی ہیں اس پروجیکٹ میں کرپشن بد عنوانی غلط ڈیزائن اور دیگر تمام امور میں بد ترین کرپشن ثابت ہو چکی ہے مگر یہاں کسی نے کسی کو۔ نہیں پوچھا اب پھر انتظامیہ کی غفلت سے ایک ہی گھر کے تین چراغ بجھ گئے گھر میں قیامت کا منظر دیکھنے میں آیا اور ظلم یہ بھی ہے کہ ایف آئی ار ہونے کے باوجود مجرمانہ غفلت برتنے والے سزا سے ہمشہ بچ جاتے ہیں اور کیس کے اختتام تک ذمہ داروں کا تعین نہ ہو پاتا،(کس کے ہاتھوں پے اپنا لہو تلاش کریں ) جیسی بات ہے ،

کیسے چھٹکارا مل سکتا ہے اس زیر زمین میگا سیوریج پروجیکٹ سے ہر جگہ سڑک سے ڈر ہی لگتا ہے کہ نیچے نہ دھنس جاۓ ، لوگوں کو۔

بچانے کے لیے دوبارہ مربوط حکمت عملی اور لائنیں ٹھیک کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے خدارا توجہ دیں بچوں کی زندگیوں سے کھیلنا بند کریں کرپشن کے ذمہ داروں کو سزا دیں،
ایک اور مسلہ اور میں اکثر ایک اس بات کی نشاندہی کرتا رہتا ہوں کہ شیخ زید ہسپتال میں گارڈز کی تربیت بہت ضروری ہے لمحہ لمحہ وہاں لوگوں کا استحصال ہوتا ، میرے ساتھ بھی ہو چکا اور کئی بار لکھا ،

رحیم یار خان کی بد قسمتی کہ شائد ایک دو ضلعے ہوں جہاں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال نہیں ورنہ وکٹوریہ کے ساتھ بھی ہے اور نشتر کے ساتھ بھی ہے یہ گورننگ باڈی ہے اور بہتری لانے کے بجاۓ سب شیر و شکر ہو جاتے ہیں اک بار میں اپنی بیٹی کو ایمرجنسی لے کر گیا صرف خالی بیڈ پے لٹا دیا ساتھ بیٹھا ڈاکٹر خاموش تھا جب کہ گارڈ نے اچھی خاصی بے عزتی جیسا ہی کچھ کر دیا اور ضد لگا دی پھر میں بھی کھڑا ہو گیا اور بولا اس سارے دوران ڈاکٹر گارڈ سے دبا دبا سا لگا اور بعد میں ڈائریکٹر بھی کہا کہ وہ بیڈ خالی تھا لٹا دیا کوئی بات نہیں تھی ۔۔

یعنی پاور کا بھی اندازہ لگائیں اپ ، خیر میں نے شور ڈالا تو اس وقت بھی آ گیے تب کا ڈائریکٹر سیکورٹی کا جواب کبھی نہیں بھولے گا کہ ‘ اپ پڑھے لکھے ہیں وہ گارڈ ہے چھوڑیں معاف کریں ‘ پھر میں نے دیکھا یہی بات سب کو کہی جاتی ہے ۔۔۔
یقین مانیں بہت استحصال کرتے سادہ لوح لوگوں کے ساتھ لوگ اپنی پریشانی میں ہوتے ۔۔۔اپ بس یہ سمجھیں کہ ڈاکٹرز وہاں سیلز مین بیٹھے مختلف پرائیویٹ ہسپتالوں کے وہ بیٹھے ہی وہاں پرائیویٹ میں ریفر کا مشورہ دینے کے لیے وہاں بیٹھے ہیں ایسے رویے ان کے فائدے میں ہیں جو مریضوں اور ان کے ورثا کے لیے فیصلہ آسان کر دیتے ہیں ۔۔۔

سب مارکیٹنگ کر رہے ہیں پرائیویٹ ہسپتالوں کی کوئی پرسان حال نہیں کوئی نہیں پوچھتا یہاں اور نہ کوئی نظام دیکھتا اس کا سی ای او ہیلتھ کے دائر اختیار سے باہر ہے،

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کو ہونا از حد ضروری ہے علاقے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر ضرورت ہے ترقی کا پیمانہ دیکھ لیں کب سے یہ قدیم ترین شاہی روڈ بنی ہے ؟ کتنی ایمبولینس لیاقت پور خان پور سے رحیم یار خان شیخ زید ہسپتال جاتی ہیں اس بات کو صرف رحیم یار خان ضلعے کے لوگ ہی جان سکتے ہیں

میں نے کئی بار ایمبولینس میں ترپتے ہوئے مریضوں کو ریل گاڑی کی راہ تکتے دیکھا ہے ، ترنڈہ سوائے خان پھاٹک دو بڑی تحصیلوں کو ضلع سے ملاتا ہے اگر فیروزہ کو چک /87 سے ملانے والا اور ہیڈ بریج بن گیا سٹی چوک سے عباسیہ ٹاؤن کو ملانے والا بھی بن گیا تو یہ کب بنے گا کیا قباحت ہے ۔۔۔

کیوں توجہ نہیں اس طرف ؟ کیا اس بجٹ میں اس پھاٹک سے مریضوں طالب علموں اور مزدوروں کی جان چھڑوانے کا کوئی منصوبہ ہے گاڑیوں والے شاید سائیڈ سے نکل جاتے تو انہیں ویگنوں کا بسوں کا کوچوں کا اور ایمبولینس کا احساس نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔

حد ہے باقی جتنے مرضی ہیرے لگا دیں ترقیاتی کاموں کا امبار لگا دیں لیکن اس تکلیف کا مداوا نہیں، زمیدار کوئی ایک نہیں اس محرومی کا یہ 70 سال سے زائد کی کہانی ہے میں آج تک ترجیحات نہیں سمجھ سکا ،

پنجاب میں اتنا مین عوامی سہولت کا کام رہ جانا کمال عدم توجہی کا نمونہ ہے اور میرا خیال ہے کہ اپنی نو عیت کا انفرادی ریلوے پھاٹک ہو گا۔
ایک اور مسلہ رحیم یار خان میں قائم خواجہ فرید انجینرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی اور اسلامیہ یونیورسٹی کیمپس میں مالی بد اور اخلاقی بد عنوانیوں کے سکینڈل زبان زد عام ہیں اور سوشل میڈیا کی زینت بنے ہوئے ہیں سے اداروں کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے والدین میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے

جس کی شفاف تحقیقات بہت ضروری ہیں تاکہ استادوں کے لیے احترام و تشخص مجروح نہ ہو اور بلا جواز انارکی پھیلانے والوں کا سد باب ہو سکے مگر تحقیقات کا شفاف ہونا بہت ضروری ہے تاکہ معاشرے کا اداروں پراعتماد بحال ہو پتہ نہیں سب چپ ہی ہو جاتے ہیں اور سب کو کلئیر چٹ تھما دی جاتی ہے ،

نظام کو ٹھیک کئے بغیر اچھی کارکرگی کہیں سے بھی ممکن نہیں نکالیں عوام کو کرپشن زدہ ماحول سے وہ مسائل حل کرنے اور محکموں کو ایمانداری کی طرف راغب کیے بغیر ممکن نہیں مگر ہمیں ابھی بھی امید بہار ہے

اک نظر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button