fbpx

سانڈھے کا تیل: کیا ایک مفروضے کی بنا پر اس معصوم جانور کا قتلِ عام کیا جا رہا ہے؟

پاکستان کے گرم صحرائی علاقوں میں ریت پر رینگتا یہ بے ضرر سا جانور ’سانڈھا کہلاتا ہے۔
سبزہ کھاتے اور شکاری پرندوں اور درندوں سے خود کو بچاتے اس کے دن گزرتے ہیں۔ مگر یہ خود کو انسان سے نہیں بچا پاتا۔

دوسرے ہر جانور کی طرح اس میں بھی چربی پائی جاتی ہے۔ مگر اس کی چربی پر انسان کی خاص نظر ہے۔ اس لیے یہ آپ کو رحیم یارخان کے گلی کوچوں اور چوراہوں میں سڑک کنارے یا پھر ٹھیلوں اور دکانوں میں بیٹھا ملے گا۔

مگر سانڈھا وہاں خود سے نہیں آتا، صحراؤں سے پکڑ کر لایا جاتا ہے۔ یہاں یہ چل پھر نہیں سکتا کیونکہ اس کی کمر کی ہڈی توڑ دی جاتی ہے۔ اس کے بعد اس کی زندگی کے دن گنے چنے ہوتے ہیں۔

فٹ پاتھوں پر مجمع لگائے یا پھر بڑی بڑی دکانوں پر ’سانڈھے کے خالص تیل‘ کی شیشیاں سجائے سانڈھے کے ان شکاریوں کو گاہک ملنے کی دیر ہے، وہ چاقو کی مدد سے اس کا نرم پیٹ چاک کرتے ہیں اور اندر موجود چربی نکال لیتے ہیں۔

یہ سب کچھ گاہک کی آنکھوں کے سامنے کیا جاتا ہے تا کہ اس کی تسلی ہو کہ وہ ’اصلی تیل‘ لے کر جا رہا ہے۔

رحیم یارخان میں ایسے بے شمار علاقے ہیں جہاں آپ کو سانڈھے کے تیل کی باقاعدہ دکانیں مل جائیں گی۔ ان میں سے چند کئی دہائیوں سے قائم ہیں۔

ریلوے روڈ، لکڑ منڈی، سکول بازار، مچھلی منڈی اور مکّی بازار جیسے علاقوں میں سانڈھے کے تیل کا کاروبار کھلے عام ہوتا ہے۔ تاہم ان دکانوں پر موجود خریدار بات کرنے سے کتراتا ہے۔ وہ ڈرتا ہے کہ اس کے کسی جاننے والے کو معلوم نہ پڑ جائے۔

سانڈھے کے تیل میں ایسا کیا ہے؟

ریلوے روڈ پر  چند معذور سانڈھے لیے بیٹھے ایک شخص کے پاس ایک نوجوان موجود تھا۔ وہ پتوکی سے آئے تھے اور انھوں نے اپنا نام محمد یٰسین بتایا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے کسی دوست کے لیے سانڈھے کا تیل خریدنے آئے تھے۔

’یہ میں نے پہلے بھی اپنے ایک دوست کو بھجوایا تھا تو اس کو تقریباً فائدہ ہوا ہے۔ اب اس نے پھر دبئی سے مجھے پیغام بھیجا ہے کہ اسے اصلی سانڈھے کا تیل چاہیے۔ تو میں نے یہاں اپنی آنکھوں کے سامنے نکلوایا ہے۔‘

وہ سمجھتے ہیں کہ سانڈھے کے تیل میں ایفروڈیسیاک خصوصیات ہیں یعنی یہ مرادنہ جنسی طاقت میں اضافہ کرتا ہے۔ ’یہ نفس کی کمزوری کے لیے ہے۔‘

مردانہ کمزوری کے لیے نفس کی مالش کرتے ہیں

محمد یٰسین کی عمر 20 سے 30 برس کے درمیان ہے۔ وہ پڑھے لکھے بھی نہیں ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ انھیں سانڈھے کے تیل کے بارے یہ معلومات کہاں سے ملی ہیں؟ ا س کے لیے آپ لکڑ منڈی کے علاقے میں موجود متعدد سانڈھے والوں سے کسی کے پاس بھی چلے جائیں۔

وہ جب اس کے بارے میں بات کرنا شروع کرتے ہیں تو لوگوں کا ایک ہجوم ان کے گرد جمع ہو جاتا ہے۔

ایسے ہی ایک تیل بیچنے والے نے محکمہ جنگلی حیات کے خوف سے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔ ان کے پاس ایک درجن سے زائد ٹوٹی ہوئی کمر والے سانڈھے موجود تھے۔

ان کا دعوٰی تھا کہ یہ تیل جسم کے درد، فالج اور پٹھوں کی کمزوری کے علاوہ ’مردانہ کمزوری کے علاج کے لیے مفید ہے۔ مردانہ کمزوری کے لیے نفس پر اس کی مالش ہوتی ہے۔‘ ان کے مطابق یہ معلومات ان کے باپ دادا سے ان تک منتقل ہوئی ہیں۔ ان کا خاندان یہی کاروبار کرتا رہا ہے۔

سانپ، شیر اور مینڈک کی چربی ڈالی جاتی ہے

ان کی ریڑھی پر صرف سانڈھے اور تیل کی شیشیاں ہی موجود نہیں تھیں۔ ایک پٹاری میں ایک سانپ موجود تھا جبکہ دو سانپ نیچے ایک ڈبے میں چھپا کر رکھے گئے تھے۔ ایک مرتبان میں جونکیں موجود تھیں اور کئی مرتبان مختلف قسم کی چربیوں سے بھرے ہوئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ چربیاں شیر، ریچھ، سانپ، مینڈک اور ایسے ہی دوسرے جانوروں کی تھیں جو کہ سانڈھے کے تیل میں ڈال کر ایک خاص تل تیار کیا جاتا ہے۔

’ان سے سانڈھے کے تیل کی تاثیر بڑھ جاتی ہے۔ تلہ زیادہ گرم ہوتا ہے۔‘

ان کے مطابق ان جانوروں کی چربیاں بیچنے والے بھی موجود ہیں جن سے انھیں یہ باآسانی مل جاتی ہیں۔

’یہ گاہک پر منحصر ہے کہ اسے کیا چاہیے۔ جو اس کی ڈیمانڈ ہو ہم تیار کر دیتے ہیں۔‘

’زیادہ تر تو جوان بچے ہی آ رہے ہیں‘

سانڈھے کا تیل اور تلہ خریدنے کے لیے ان کے پاس ہر عمر کے لوگ آتے ہیں۔ مگر زیادہ تر آج کل ان کے پاس نوجوان بچے آتے ہیں۔

’بچے یہ انٹرنیٹ وغیرہ دیکھ کر اور بڑوں کو دیکھ کر بھاٹی چلے آتے ہیں تیل لینے۔ خود بڑے ہوئے نہیں، لیکن تیل لے لو۔‘ یہ کہہ کر وہ ہنس دیے۔

وہ اور ان جیسے سانڈھے کے تیل کا کاروبار کرنے والے افراد نے مردانہ جنسی کمزوری یا ایریکٹائل ڈِس فنکشن کے حوالے سے اپنے متوقع گاہک کو ڈرا دینے والی کہانیاں بتاتے ہیں۔

ان کا لُبِ لباب یہی ہوتا ہے کہ ’زیادہ سیکس یا پھر سیکس کے دوران کی جانے والی غلطیاں اس کمزوری کا سبب بنتی ہیں۔‘ ایسے تمام دعوں کا تعلق میڈیکل سائنس اور اس میں تحقیق سے ہے جبکہ ایسے زیادہ تر افراد ان پڑھ ہوتے ہیں۔

کیا سانڈھے کا تیل واقعی مفید ہے؟

پروفیسر ڈاکٹر مزمل طاہر لاہور کے ایور کیئر ہسپتال میں یورالوجسٹ ہیں اور لاہور ہی کے شیخ زید ہسپتال کے شعبہ یورالوجی کے سربراہ رہ چکے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سانڈھے کے تیل کے مبینہ فوائد کے حوالے سے کی جانے والی تمام باتیں محض داستانیں اور وہمی باتیں ہیں۔

’اگر آپ سانڈھے میں نکلنے والی چربی کا کیمیائی جائزہ لیں تو آپ کو معلوم ہو گا یہ کسی بھی جاندار میں پائی جانے والی دوسری چربی کی طرح ہے اور اس میں کوئی خاص بات نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ تلہ میں بھی کوئی ایسی خصوصیت نہیں ہے جو کسی بھی قسم کی جنسی کمزوری کا علاج کر سکے۔ ’

بلکہ ہم نے بہت سے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو جلنے کے بعد ہمارے پاس آئے ہیں۔ جس جگہ وہ تلہ لگاتے ہیں وہ جگہ جل جاتی ہے۔ پھر پلاسٹک سرجری کرنا پڑتی ہے۔‘

ایریکٹائیل ڈسفنکشن کی زیادہ تر کوئی وجہ ہی نہیں ہوتی

ڈاکٹر مزمل کا کہنا تھا کہ ایریکٹائیک ڈس فنکشن جس کا سانڈھے کے تیل کے ذریعے علاج کرنے کا دعوٰی کیا جاتا ہے ‘اس کی 90 فیصد تو کوئی عضوی وجہ ہی نہیں ہوتی۔’

جن لوگوں میں ایریکٹائل ڈس فنکشن ہو ’ان کی اگر سائیکو تھراپی کی جائے تو 60 سے 70 فیصد لوگ ویسے ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ باقی کچھ کو ادویات کی ضرورت پڑتی ہے وہ اس سے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل سائنس نے اس قدر ترقی کر لی ہے کہ ہر قسم کی جنسی بیماری کا علاج ممکن ہے۔

ڈاکٹر مزمل کے مطابق ’سانڈھے کو بلا وجہ مار دیا جاتا ہے اور لے دے کر یہ سب پیسے کا کھیل ہے۔‘

سانڈھا ہی کیوں؟

ڈاکٹر مزمل کے مطابق پاکستان اور انڈیا کے کئی علاقوں کے علاوہ سانڈھوں کو دنیا کے دیگر کئی علاقوں میں بھی ان ہی غلط مفروضوں کی بنا پر مارا جا رہا ہے جبکہ پاکستان سے اس کا تیل عرب ممالک اور دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی بھیجا جاتا ہے۔

’کئی جگہ پر اس کے جنسی اعضا بھی کھائے جاتے ہیں اور اس کا گوشت بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سب کے پیچھے یہی سوچ کارفرما ہے کہ سانڈھا جنسی کمزوری کا علاج ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس کاروبار میں ملوث افراد زیادہ تر خود بھی ان پڑھ ہوتے ہیں اور کم پڑھے لوگوں کو بیوقوف بنا کر پیسے کماتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صدیوں سے سانڈھے کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ چھوٹا سا جانور ہے جس میں بے پناہ طاقت پائی جاتی ہے اور یہ صحرا کے انتہائی گرم حالات میں بھی زندہ رہ لیتا ہے۔ ‘یہی اس مفروضے کی بنیاد بنا کہ اس کی چربی میں بے مثال طاقت ہو گی۔’

’بس جو بات صدیوں سے چل پڑی ہے اس کو یہ لوگ چلائے جا رہے ہیں۔ اس پر بہت تحقیق ہو چکی ہے جس نے یہ ثابت کیا ہے کہ سانڈھے کی چربی میں ایسی کوئی خصوصیات نہیں ہیں۔‘

سانڈھے کے تیل کے کاروبار سے کتنا پیسہ ملتا ہے؟

سانڈھے کا تیل فروخت کرنے والے شخص نے بتایا کہ سانڈھے کے عام تیل کی شیشی 150 سے 500 روپے کے درمیان بکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپیشل تلہ مہنگا بھی بکتا ہے۔ یہ اس پر منحصر ہے کہ گاہک کو اس میں کس قسم کی چربی چاہیے۔

’سپیشل تلہ 3000 سے 4000 ہزار روپے تک بھی بک جاتا ہے۔ جس طرح کی گاہک کی مانگ ہو اس قسم کا تیار کر دیتے ہیں اس کو۔’ ان کا کہنا تھا کہ ایک سانڈھے کو مار کر اس کی چربی میں سے کتنا تیل نکلے گا یہ اس کے جسمات پر منحصر ہے۔

’کسی میں سے ایک تولہ کسی میں سے دو تولے بھی نکل آتا ہے۔‘

بات کرتے ہوئے اچانک ان صاحب نے سامنے پڑے سانڈھے اٹھا کر ایک ڈبے میں ڈالنے شروع کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ جنگلی حیات کے لوگ آ رہے تھے۔

’سانڈھا نہیں رکھ سکتے نہ ہم۔ وہ جرمانہ کرتے ہیں یا پھر ٹھیا اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‘

مگر شہر کے اندر ایسی بے شمار جگہیں موجود ہیں جہاں درجنوں سانڈھے روزانہ کھلے عام مارے جا رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close