وکلاء کی ہڑتال رنگ لے آئی کرپٹ ڈپٹی کمشنر کو اوایس ڈی بنادیاگیا

رحیم یارخان :وکلاء کی ہڑتال رنگ لے آئی کرپٹ ڈپٹی کمشنر کو اوایس ڈی بنادیاگیا۔ وکلاء کا ڈپٹی کمشنر کے خلاف چاروں تحصیلوں کی بارز میں مکمل ہڑتال اوراحتجاجی ریلی ودھرنے شروع تھے،

احتجاجی ریلی ودھرنے میں وکلاء،کلرکس اورسول سوسائٹی کے افرادکرپشن کے خلاف بھر شرکت کررہے تھے۔چیف سیکریٹری نے ایکشن لے لیا
ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کے وکلا ء کے ساتھ نامناسب رویے اورسب رجسٹرار کی مستقل تعیناتی،سب رجسٹرار آفس میں کرپشن کا خاتمہ نہ کرنے پر،نوجوان وکلاء کے لیے دو کنال اراضی کا وعدہ تھا

ڈی سی کی جانب سے وہ بھی پورا نہ کرنے پرضلع بھر کے ہر ڈیپارٹمنٹ میں سرعام کرپشن اور رشوت کے کیسز منظرعام پر آنے کے خلاف پندرہ روز تک ہڑتال کر رکھی تھی اور چاروں تحصیلوں کی بار ایسوسی ایشن کے وکلاء کلرکس،سوسائٹی کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر خرم شہزاد کے خلاف احتجاجی ریلی اوردھرنہ دے رہے تھے

جس کی روز کی رپورٹ مختلف اداروں کی جانب سے چیف سیکرٹری کو مسلسل موصول ہو رہی تھی،دھرنوں میں صدر ڈسٹرکٹ بار سردار فلک شیر خان گوپانگ اورجنرل سیکرٹری مرزاامین خان نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہاتھا

کہ ہم وکلاء اورسائلین کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھیں گے اورمطالبات کی منظوری تک یہ سلسلہ جاری رہے گا انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر خرم شہزاداپنی کورٹ میں ٹائم پر نہ بیٹھنے سے چاروں تحصیلوں کے وکلاء کو مشکلات کا سامناہے سارادن انتظار کروا آخری وقت پر پیشی دے دی جاتی تھی جو کہ وکلاء کے ساتھ سراسر زیادتی تھی،

کالے کوٹ کے تقدس کے ساتھ ڈپٹی کمشنر کھیل رہا تھا اورڈپٹی کمشنر کے زیر سایہ چلنے والے تمام اداروں میں رشوت اور کرپشن کے بازار کا خاتمہ نہ کرنے پراپنی جدوجہد جاری رکھنے کااعلان کیا تھا اگلے روز وکلاء کی طرف سے بھیجی تمام قراردادیں اور درخواستوں کو مد نظر رکھتے ہوئے وکلاء کے تمام مطالبات تسلیم کرتے ہوئے

حکومت پنجاب اور چیف سیکریٹری پنجاب نے سابق ڈپٹی کمشنر رحیم یارخان ڈاکٹر خرم شہزاد کو اوایس ڈی بناکر ٹرانسفر کردیا وکلاء براری نے حکومت پنجاب کاشکریہ ادا کیا،

صدربار سردار فلک شیر خان گوپانگ اورجنرل سیکرٹری مرزاامین خان نے نئے تعینات ہونے والے ڈپٹی کمشنر نعمان یوسف سے بھی یہی مطالبہ کیا ہے کہ وہ ضلع کے تمام سرکاری آفیسران کو آفس میں ٹائم پر آنے کا پابند اوررشوت ستانی کو کنٹرول کریں اورکالے کوٹ کو ہرڈیپارٹمنٹ میں عزت دی جائے ورنہ کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

اک نظر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button