fbpx

نہری نظام

آب پاشی

        زمینوں کے لئے پانی زندگی کی حیثیت رکھتا ہے جہاں انسان نے بستیاں آباد کیں تو اسکے ذرائع پیداوار ابتداء میں سادہ تھے ۔ان میں گلہ بانی ، اور کاشتکاری اہم ہیں کاشتکاری کے لئے آب رسانی کے ذرائع ہمیشہ سے اہم رہے ہیں۔

ہمارے ضلع رحیم یار خان میں میٹھے پانی کے علاقوں میں کنویں اور جھلاریں آب پاشی کا اہم ذریعہ تھیں یا پھر سیلابی پانی کے آنے سے آب پاشی کی جاتی تھی ۔ بارانی علاقوں میں بارشیں بھی آب پاشی کا ذریعہ تھیں ۔

موجودہ نظام آب پاشی سے قبل اس علاقے میں سیلابی نہروں سے آب پاشی ہوتی تھی۔ جو بعض حالات میں تین ماہ سے زائد عرصہ جاری نہیں رہتی تھیں۔ جیسے ہی دریائوں میں سیلاب کا زور کم ہوتا یہ نہریں بند ہوجاتیں۔ سردیوں میں آب پاشی کا تمام تر انحصار کنوئوں سے حاصل ہونے والے پانی پر ہوتا تھا ۔

اس سلسلہ میں کرنل منچن کی خدمات ناقابل فراموش ہیں انہوں نے 1867ء میں اس محکمہ کی بنیاد رکھی ابتداء میں زراعت صرف ججہ عباسیاں ، بھٹہ واہن، پٹن، سیخ واہن ، کھائی ، بودلہ ، سرواہی اور مئو کے علاقوں میں ہوتی تھی 1867ء کے بعد انگریز کونسل آف ریجنسی کے تحت ضلع رحیم یار خان میں سیلابی نہروں کے جدید ہیڈ ورکس بنائے اور نئے رقبہ جات ان نہروں پر شامل ہوئے ۔

 ان نہروں کی تعداد 10  تھی جودریائے سندھ سے نکلتی تھیں اور ان نہروں سے آب پاش ہونے والا کل رقبہ 7,93,609  ایکڑ تھا ۔ اس کے علاوہ دریائے پنجند سے نکلنے والی نہروں کی تعداد 6  تھی اور زیر آب کل رقبہ 7,54,654  ایکڑ پر مشتمل تھا ۔

1928ء تک یہ انہار جاری رہیں ۔ اس نظام آب پاشی میں سب سے مشکل کام سالانہ بھل صفائی کا تھا ۔ عوام سے بیگار لی جاتی اور کھانے کے عوض کام لیا جاتا ۔ اس نظام کی اصلاح کے لئے لوگوں پر اتنی سختی کی گئی کہ بعض برادریوں نے اپنے رقبہ جات مزارعوں کے متولیوں اور پیر صاحبان کے نام کردئیے ۔ بھل صفائی کے کام کو” چھیڑ”کہا جاتا تھا۔

حدتو یہ تھی کہ غریب لوگ روٹی تک اپنے ساتھ باندھ کر لے جاتے تھے اور دن رات بیگار لی جاتی تھی فصل ربیع کی کاشت کنوئوں سے کی جاتی تھی یا نہروں میں رکے پانی پر جھلار کے ذریعے پانی اٹھایا جاتا تھا۔

اونچی زمینوں پر جھلار کے ذریعے آب پاشی پور ا سال جاری رہتی تھی۔ اس زمانے میں بڑی فصل گندم تھی اور دوسری چاول ۔ کپاس برائے نام کاشت ہوتی تھی، اس کے بعد کاشتکاری کی بڑھتی ہوئی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے 1920میں حکومت ہندوستان نے ریاست بہاولپور کی کونسل آف ریجنسی کے ساتھ معاہدہ کی صورت ستلج ویلی پراجیکٹ کی منظوری دی، اس پراجیکٹ کے تحت دریائے ستلج پر 4 ہیڈورکس تعمیر کئے گئے ان میں سے چوتھا اور آخری پنجند ہیڈ ورکس تھا یہ ہیڈورکس ستلج اور چناب کے سنگم پر بنایا گیا

اس ہیڈ ورکس سے نکلنے والی نہریں ضلع رحیم یار خان کے وسیع و عریض صحر ا کے کچھ حصہ اور قدیم سیلابی نہروں کے تمام علاقے کو آب پاش کرتی ہیں اور یہی منصوبہ ضلع رحیم یار خان کا جدید نہری نظام آب پاشی ہے۔ اس ہیڈ ورکس سے دو انہار نکالی گئیں یہ دونوں نہریں بائیں جانب سے نکالی گئیں دونوں میں سے بڑی کا نام پنجند کینال ہے اس کا ڈسچارج 9567 کیوسک ہے۔

 یہ نہر غیر مستقل ششماہی  (غیر متوقع) ہونا تھی اس کا بنیادی مقصد ان علاقوں کو سیراب کرنا تھا جن کو سندھ اور چناب سے نکلنے والی سابقہ نہریں کرتی تھیں جو کہ ستلج ویلی پراجیکٹ سے متاثر ہوئے تھے کیونکہ دریائے ستلج کا پانی بہت اوپر روک لیا جاتا تھا۔

چھوٹی نہر کا نام عباسیہ کینال رکھا گیا اس کا ڈسچارج 1032کیوسک تھا جس میں سے 516کیوسک خالصتاً مستقل سالانہ آب پاشی (Prennial) تھا جس سے 2,70,000 ایکڑ رقبہ سیراب ہوتا تھا۔ اس علاقہ میں زرعی اور اقتصادی سرگرمیوں کو تیز کرنے میں ستلج ویلی پراجیکٹ کا بہت بڑ ا حصہ ہے نواب صادق محمد خان پنجم کے عہد میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔ یہ منصوبہ 1920 میں شروع ہوا اور 1932 میں مکمل ہوا۔

اس منصوبے کے تحت دریائے ستلج کی وادی جدید نظام آب پاشی سے منسلک ہوگئی۔

ہیڈ پنجند میں 60  فٹ چوڑے 33 عدد   (درے) بنائے گئے دوسرے چھوٹے حصہ ہیڈ ورکس میں 60  فٹ چوڑے 14  عدد  بنانے پڑے تاکہ پنجند ہیڈ ورکس سے ساڑھے سات لاکھ کیوسک پانی باآسانی گذر سکے ۔

تاکہ دریائوںمیں فلڈ آجانے سے ہیڈ ورکس کو نقصان نہ پہنچے ۔ ہیڈ ورکس کے دائیں اور بائیں جانب حفاظتی بند تعمیر کئے گئے دایاں مارجنل بند 66,304  فٹ لمبا ہے جو کہ مظفر گڑھ علی پور سے جاملتا ہے ۔

یہ بند دریائے چناب کے پرانے راستہ پر ہے جہاں سے دریا کا رخ موڑ کر بیراج کے راستہ پر لایا گیا تھا۔ بایاں مارجنل بند 66500 فٹ لمبا ہے اس کی پہلی 16,500 فٹ لمبائی بالکل نئی بنائی گئی جبکہ 16,500  سے 35,500 تک ایک پرانے موجود بند کو مضبوط کیا گیا جس کا نام چنی واہ بند تھا ،  35,500 فٹ سے آگے ایک پرانی سیلابی نہر کے دائیں کنارے کو مضبوط بنا کر جو بند بنایا گیا اسے مشہور منچن بند کہا جاتا ہے۔

19  دسمبر 1931 کو ہیڈعدد SPANS بنانے پڑے تاکہ پنجند ہیڈ ورکس سے ساڑھے سات لاکھ کیوسک پانی باآسانی گذر سکے ۔ تاکہ دریائوںمیں فلڈ آجانے سے ہیڈ ورکس کو نقصان نہ پہنچے ۔ ہیڈ ورکس کے دائیں اور بائیں جانب حفاظتی بند تعمیر کئے گئے دایاں مارجنل بند 66,304  فٹ لمبا ہے جو کہ مظفر گڑھ علی پور سے جاملتا ہے ۔

یہ بند دریائے چناب کے پرانے راستہ پر ہے جہاں سے دریا کا رخ موڑ کر بیراج کے راستہ پر لایا گیا تھا۔ بایاں مارجنل بند 66500 فٹ لمبا ہے اس کی پہلی 16,500 فٹ لمبائی بالکل نئی بنائی گئی جبکہ 16,500  سے 35,500 تک ایک پرانے موجود بند کو مضبوط کیا گیا جس کا نام چنی واہ بند تھا ،  35,500 فٹ سے آگے ایک پرانی سیلابی نہر کے دائیں کنارے کو مضبوط بنا کر جو بند بنایا گیا

اسے مشہور منچن بند کہا جاتا ہے۔ 19  دسمبر 1931 کو ہیڈ پنجند کا تعمیراتی کام پایہ تکمیل کو پہنچا۔ اس وقت جب دریا میں تین ہزار کیوسک پانی بہہ رہا تھا دریا کا رخ موڑ کر ہیڈ ورکس کی جانب لایا گیا۔ اس ضلع کے نہری نظام کی منصوبہ بندی اور کنٹرول کرنے کے لئے یہاں کے دو انجینئر ز شیخ احمد حسن اور سید نور علی ضامن حسینی کے نام قابل ذکر ہیں۔

        نہروں کا باضابطہ اجراء یکم اپریل 1932  ء میں ہوا۔ اس کے ساتھ ہی ضلع رحیم یار خان میں خوشحالی کے دور کا آغاز ہوا ۔ اس جدید نہری نظام کو چلانے کے لئے تین ڈویژن اور 9  سب ڈویژن بنائے گئے

خان پور ڈویژن
اس کے تحت تین سب ڈویژ ن ہیں  ۔ الہ آباد    ۔پکا لاڑاں   ۔خان پور

ڈالس ڈویژن
اس کے تحت بھی تین سب ڈویژن ہیں      ۔بھونگ   ۔احمد پور لمہ   ۔رکن پور

رحیم یارخان ڈویژن
اس کے تحت بھی تین سب ڈویژن ہیں        ۔ کوٹ سمابہ        ۔ملکانی       ۔رحیم یارخان

ہر ڈویژن میں 7/8 کلو میٹر کے فاصلے پر ریسٹ ہائوسز بھی تعمیر کئے گئے 1928  تک تعمیر کئے گئے ریسٹ ہائوسز کی تعداد 41ہے جن میں سے اب اکثریت خستہ حال ہے۔ اس وسیع نہری نظام میں بغیر مشینری کے  1503  میل لمبی نہریں کھودی گئیں ۔ جوکہ یہاں کے سخت جان مزدوروں نے سر پر ٹوکریوں سے مٹی اٹھا کر تعمیر کیں ۔ یہ تمام نہریں پرانے دریائی راستوں پر بنائی گئیں ہیں ۔

ء1947تک ان میں کینال اور فیڈرز کی لمبائی 245 میل تھی ان سے نکلنے والی ڈسٹری بیوٹریز مائنرز اور سب مائنرز کی لمبائی 1256 میل تھی گویا ان کی مجموعی لمبائی 1503  میل تھی ان انہار سے ضلع رحیم یار خان میں سالانہ آب پا شی ہوئی۔ 1930 ء میں 6,14,971 ایکڑ ، 1935ء میں 6,25,701 ایکڑ، 1940ء میں 7,33,945 ایکڑ تھی ۔ عباسیہ کینال میں  1932  میں کچھ مسائل پیش آئے جس کی وجہ سے کمیشن قائم ہوا اور فیصلہ کیا گیا کہ عباسیہ کینال کا رقبہ متروک قرارد یا جائے ۔
عباسیہ کینال کی لمبائی 2, 34, 650  فٹ سے کم کرکے  93, 000  فٹ پر ختم کی جائے اور اس کا ہیڈ سے ڈسچارج بھی  226  کیوسک کردیاگیا ۔ پنجند کینال سسٹم میں 1947  میں کافی وسعت پیدا ہوگئی تھی پاکستان بننے کے بعد ڈویژن اور سب ڈویژن کی حدود میں تبدیلی کی گئی

رحیم یار خان کے تینوں کینال ڈویژنوں کی حدود اب اس طرح ہیں جو آج تک قائم ہیں ۔ ڈویژن کی حدود میں تبدیلی کی گئی رحیم یار خان کے تینوں کینال ڈویژنوں کی حدود اب اس طرح ہیں جو آج تک قائم ہیں ۔

 رحیم یار خان کینال ڈویژن : کل انہار بشمول ڈسٹری بیوٹری مائنرز اور سب مائنر 85ہیں.
خانپور کینال ڈویژن:کل انہار بشمول ڈسٹری بیوٹری مائنر اور سب مائنر 72 ہیں.
ڈالس کینال ڈویژن :کل انہار بشمول ڈسٹری بیوٹری مائنر اور سب مائنر 70 ہیں.

رحیم یار خان میں توسیع آب پاشی کے پروگرام سے جدید رقبہ جات الاٹ کئے گئے اور رقبہ میں آب پاشی کے لحاظ سے جس طرح اضافہ ہوا اس کو سالانہ حساب سے درج ذیل چارٹ سے واضح کیا گیا ہے

رقبہ ربیع ایکڑ

سال

رقبہ ربیع و خریف ایکڑ

سال

14,04,809

1970-71

8,47,831

1947-48

17,87,065

1981-82

8,99,662

1950-51

1,29,039

1991-92

11,75,716

1960-61


نوٹ : عباسیہ کینال میں ضلع رحیم یار خان میں 2002-03 میں نہری نظام کے تحت کل زیر کاشت رقبہ 18,38,430 ایکڑ ہے ۔

اس توسیع آب پاشی پروگرام کی وجہ سے ہر دو انہار کی سالانہ آب پاشی 19,89,411 ایکڑ ہے جبکہ 1981-82 میں 17,87,065 تھی دس سال کے عرصہ میں 2,02,346 ایکڑ زائد آب پاشی ہوئی۔ یہ غیر معمولی اضافہ آب پاشی کے نظام کی اعلیٰ منصوبہ بندی کا مظہر ہے ۔

اس نظام آب پاشی کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ اس کے منفی پہلو بھی ماہرین کے زیرنظر رہے یعنی ضلع رحیم یار خان میں زیر زمین پانی کی سطح بلند ہوتی گئی پورے ضلع میں لاکھوں ایکڑ سیم و تھور کا شکار ہوئے ۔ اس کے لئے حکومت نے ایک منصوبہ سکارپ VI  کے نام سے شروع کیا جس کا مقصد ایک علیحدہ نہر خالصتاً مستقل آب پاشی کے لئے ہیڈ پنجند سے نکالنا تھا نیز سیم نالے کھودنے کا منصوبہ بنایا گیا۔

یہ سیم نالے دریائے سندھ کے قدیم راستہ مشہور زمانہ "ترکڑی ڈھورا ” کے ساتھ بنائے گئے اور اسے قدیم دریائے ہاکڑہ کی وادی بھی کہتے ہیں۔ اس سیم نالہ کے ساتھ ٹیوب ویل لگائے گئے ہیں جن کی تعداد 623 ہے جو بجلی کے ذریعے چلتے ہیں اور زیرزمین پانی کو سیم نالے میں ڈالتے ہیں ۔ اس سیم نالہ کو صحرائے تھر میں پہنچانا تھا لیکن ضلع کی حدود واقع صادق آباد کے صحرا میں روک دیا گیا ہے جہاں کی زرخیز زمینیں اس کی وجہ سے متاثر ہوئی ہیں

(SCARP-VI  (Salinity Control And Reclamantion Project)
سکارپ

 اس پروجیکٹ کے تحت 6,78,000 ہیکٹر رقبہ آتا ہے جس میں سے پانچ لاکھ ترانوے ہزار ہیکٹر رقبہ پنجند اور عباسیہ کینال پر ہے ضلع رحیم یار خان
میں سیم اور تھور سے بچائو کیلئے اس منصوبہ کی اشد ضرورت تھی ۔ کیونکہ 1,36,000 ہیکٹر رقبہ شور زدہ تھا اور اس فصل کی اگائی متاثر ہو چکی تھی اور اس طرح 7,100 ہیکٹر رقبہ الکلی سے متاثر تھا۔ موجودہ منصوبہ 1966 میں ورلڈ بنک انڈس سپیشل سٹڈی رپورٹ کی بناء پر بنایا گیا تھا ۔

1968 میں ٹیپٹن اور کولن بیج USA والوں نے اس کی توسیع کی ۔ 1976  میں ایک پاکستانی کنسلٹنٹ فرم سیبسان ٹیکنیکل سروسز نے رپورٹ دی کہ یہ منصوبہ قابل عمل ہے ۔ ورلڈ بنک مشن نے اس منصوبہ کو 1967-77  میں آگے بڑھایا اس کے لئے 70  ملین امریکی ڈالر کا قرض منظور ہوا ۔

اس طرح حکومت برطانیہ نے 8.6 ملین پائونڈ دینے کی حامی بھری جو بعد ازاں 10.8 ملین تک بڑھانے کا وعدہ کیا واپڈا کی معاونت کے لئے نیسپاک اور ہالینڈ کی آئی ایل اے سی او کو منتخب کیا گیا جولائی 1979  میں یہ معاہدہ کیا گیا ۔

یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے جس کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔

کل رقبہ کا فی صد

سیراب شدہ کل رقبہ

ذریعہ

94.51

16,38,430

نہر

5.49

95,011

ٹیوب ویل /بارانی

 دوامی زون =  556.52
غیر دوامی زون=1010.91
ایک نہری میل= 5000ft

کل رقبہ (ایکڑ میں)

ڈسچارج استعمال شدہ

کل ڈسٹری بیوٹری مائینرز

ڈسچارج طے شدہ

بڑی انہار کے نام

700853

6774

27

10484 Cs.

پنجند مین کینال (NP

300000

1700

16 Dist+25 Min.

1527 Cs.

منچن برانچ(P)

198940

1291

25

1291 Cs.

رحیم یار خان برانچ(NP),(P)

253025

1383

40

1383 Cs.

صادق برانچ(NP),(P)

419695

2604

61

2604 Cs.

ڈالس برانچ (NP)

نوٹ:
محکمہ نہر کی سڑکیں محکمہ ہائی وے کے کنٹرول میں ہیں
نہروں پر درخت محکمہ جنگلات کے کنٹرول میں ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close