تھانہ آباد پور پولیس کا مرد و خواتین پر تشدد

رحیم یارخان:تھانہ آباد پور پولیس کا بھاری نفری کے ہمراہ فوتگی والے گھر میں داخل ہوکر دھاوا،عورتوں،بچوں اور مردوں پر تشدد،ایک نوجوان محمد اسماعیل پولیس تشدد سے بیہوش ہو گیا،

صدیق جھبیل و دیگر علاقہ مکینوں کا پولیس کے خلاف احتجاج،پولیس نے جوا والے گھر میں ریڈ کیا جہاں سے جواری فرار ہوگئے،ایس ایچ او محمد الیاس گورائیہ،
آباد پور کی نواحی بستی کڑتال جو کہ تھانہ آباد پور سے آدھے کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر ہے، اے ایس آئی اشتیاق احمد نے بھاری نفری کے ہمراہ گھر گھس کر دھاوا بول دیا،

محمد صدیق جھبیل ودیگر نے پولیس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بتایاکہ ہمارے گھر میں فوتگی ہوئی ہے،آج قل خوانی تھی،
پولیس نےتعزیت کیلئے آئے مہمانوں اور خواتین پر تشدد کیا، کرائے کے برتن واپس جمع کرواکر میرابیٹا محمد اسماعیل رکشے پر واپس پہنچا تو گھر کے باہر موجود پولیس اہلکاروں نے دبوچ لیا،

رائفل کے بٹ مارے جس سے بیہوش ہوگیا،بییوشی کی حالت میں ایمرجنسی لے گئے ہیں،محمد صدیق اور درجنوں مرد و خواتین نے تھانہ آباد پور پولیس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے فوتگی والے گھر میں ناجائز طور پر داخل ہوکر تشدد کا نشانہ بنایا،

گھر میں موجود عورتوں،بچوں اور مردوں میں اچانک پولیس کے گھرمیں داخل ہونے سے خوف وہراس پھیل گیا،علاقہ مکینوں نے بتایا کہ یہاں پر فوتگی ہوئی ہے،پولیس ناجائز طور پر داخل ہوئی اور چادر چار دیواری کا تقدس پامال کیا ہے،
متاثرین نے الزام لگایا کہ اے ایس آئی اشتیاق احمد نشے کی حالت میں تھااور نوجوان پر بیہیمانہ تشدد کرتا رہا ،
گھر میں موجود افراد اوراہلیان بستی نے روڈ پر بلاک کرکے پولیس کےظلم کے خلاف احتجاج شروع کردیا،نوجوان کو بیہوشی کی حالت میں چھوڑ کرپولیس ایک موٹر سائیکل بھی اٹھا کر لے گئی،
جبکہ ایس ایچ او تھانہ آباد پور محمد الیاس گورائیہ نے رابطہ کرنے پر اپنے موقف میں بتایا کہ اس گھر میں جوا کھیلا جارہا تھا پولیس نے ریڈ کیا تو جواری بھاگ گئے۔

اک نظر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button