اغوا برائے تاوان،احتجاج اور شٹر ڈائون ہڑتالوں کا آپشن استعمال کرنے کی دھمکی

رحیم یارخان:رحیم یارخان کی ضلعی موبائل امن کمیٹی اور عوامی پارلیمنٹ کے چیئرمین علامہ عبدالرئوف ربانی نے پنجاب کی ٹیل کے اضلاع میں لاقانونیت اور امن وامان کی بدترین صورتحال پر صوبے کے دونوں آخری اضلاع راجن پور اور رحیم یارخان میں مشترکہ عوامی بیداری مہم کیلئے رابطے شروع کر دیئے ،

عوامی پارلیمنٹ کے ہیڈ آفس مکی مسجد سیکرٹریٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے انہوں نے روجھان اور صادق آباد سے پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کے ایم این ایز سردار ریاض محمود خان مزاری اور مخدوم سید مرتضیٰ محمود کی قومی اسمبلی میں حق گوئی پر شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ دریائے سندھ کے کچہ ایریا میں ڈاکو راج اور نوگوایریا کے حوالے سے دونوں ارکان قومی اسمبلی نے پارلیمنٹ میں جو بے باکانہ گفتگو کی ہے وہ اس خطے کے سوا کروڑ عوام کے دلوں کی آواز ہے ،
وزیراعظم پاکستان عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو اس پر فوری توجہ دینی چاہیئے اور بھر پور آپریشن کر کے اغوا برائے تاوان نیٹ ورکس کا مستقل بنیادوں پر خاتمہ کرنا چاہیئے ، علامہ عبدالرئوف ربانی نے خبردار کیا کہ اگر اس حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو خطے کے عوام 2010 کی طرح بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج اور شٹر ڈائون ہڑتالوں کا آپشن استعمال کر سکتے ہیں ،

انہوں نے کہا کہ اس بار یہ احتجاج صرف ضلع رحیم یارخان کی چاروں تحصیلوں میں نہیں بلکہ ضلع راجن پور کی تمام تحصیلوں میں بھی کیا جائے گا ،

اس سلسلے میں وہ عوامی پارلیمنٹ کے نمائدہ وفد کے ہمراہ جلد صادق آباد ، جمال الدین والی ، بھونگ ، روجھان ، عمر کوٹ ، کوٹ مٹھن اور راجن پور کا دورہ کریں گے اور علاقے کی سرکردہ شخصیات ، منتخب نمائندوں ، تاجروں ، کاشتکاروں ، وکلا اور میڈیا کے ساتھ مشاورت کے ذریعے ممکنہ احتجاجی تحریک کا متفقہ روڈ میپ بنایا جائے گا ،

علامہ عبدالرئوف ربانی نے کہا کہ کچہ ایریا کی تشویشناک صورتحال کی قومی اسمبلی کے فلور پر بے باک ترجمانی کرنے والے دونوں ارکان قومی اسمبلی کو بھی عوامی پارلیمنٹ کے اجلاس میں مدعو کیا جائے گا ۔

چیئرمین موبائل امن کمیٹی و چیئرمین عوامی پارلیمنٹ علامہ عبدالرئوف ربانی نے کہا کہ صوبے کی ٹیل کے اضلاع کا کچہ اور پکا دونوں ایریاز کے رہائشی ایک طرف ڈاکوئوں سے پریشان ہیں تو دوسری طرف ضلعی پولیس میں کرپشن ، سفارش اور سیاسی دبائو کی وجہ سے عام آدمی کے ساتھ ہونے والی بے انصافیوں نے عوام کا پیمانہ صبر لبریز کر دیا ہے ،

انہوں نے کہا کہ فرضی وقوعے بنا کر بے گناہ لوگوں کیخلاف ایف آئی آرز دی جا رہی ہیں ، متاثرین جدید سائنسی طریق تفتیش کے تحت جھوٹی ایف آئی آرز کی سچائی کا پردہ فاش کرنے کا انتہائی جائز مطالبہ کریں تو بھی اُن کی فریاد سننے والا کوئی نہیں ،

تفتیشی افسران نہ تو جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوانے پر تیار ہوتے ہیں نہ اس ایریا کی جیو فینسنگ کا مطالبہ مانتے ہیں ، مدعی ملزم اور گواہوں کے موبائل فون ڈیٹا کی مدد سے من گھڑت وقوعے کے وقت کی لوکیشن لینے کا کہا جائے تو بھی سنی ان سنی کر دیتے ہیں ،

علامہ عبدالرئوف ربانی نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب انعام غنی کو اس اندھیر نگری کا فوری نوٹس لینا چاہیئے ۔

اک نظر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button