تھانہ صدر پولیس کے خلاف مسیحی برادری کا احتجاج مظاہرہ

رحیم یارخان:بستی یوحناآبادکی رہائشی نسرین بی بی اوراس کے شوہربنیامین مسیح کااپنے دیگرعزیزوں کے ہمراہ ڈسٹرکٹ پریس کلب تھانہ صدرپولیس کے خلاف احتجاج،

25جولائی دن دوبجے میری بیٹی سائرہ  محلے میں کریانہ کی دکان پرسوداسلف لینے گئی تودکان مالک آشرمسیح نے دکان کاشٹربندکرکے ہماری کم سن بچی سائرہ کوزیادتی کانشانہ بناڈالا،

شورواویلے پرملزم ہماری بچی کوزیادتی کانشانہ بنانے کے بعددکان کے دوسرے دروازہ سے فرارہوگیاہم نے واقعہ کی تحریری درخواست تھانہ صدررحیم یارخان میں حصول انصاف کے لیے دی مگرپولیس نے ہماری درخواست پرکوئی کاروائی نہ کی

بعدازاں ہم نے حصول انصاف کے لیے عدالت سے مقدمہ درج کرنے کے احکامات لیے جس پرواقعہ کے ایک ماہ گزرجانے والے بعدتھانہ صدرپولیس نے ہمارامقدمہ 311/22بجرم 376،511درج کیامگررشوت کے عوض ہماراملزم آج تک پولیس نے گرفتارنہیں کیا۔

بستی یوحناآبادکی مسیحی فیملی حصول انصاف کے لیے دربدرکی ٹھوکریں کھانے پرمجبور، تھانہ صدرپولیس ملزم پارٹی سے بھاری رشوت وصول کرکے مدعیان کوصلح صفائی کے لیے دباؤڈالنے لگی ڈسٹرکٹ پریس کلب کے باہراحتجاج کرتے ہوئے متاثرہ مسیحی فیملی نے میڈیاکوبتایاکہ تفتیشی مقدمہ سب انسپکٹرمحمداسلم جان بوجھ کرہماراملزم گرفتارنہیں کررہا،

ایک ماہ سے زیادہ عرصہ گزرگیاہماری بچی کے ساتھ زبردستی زیادتی کرنے والاملزم پولیس کوبھاری رشوت دے کرآزادگھوم رہاہے اوردیگرذرائع سے ہمیں مزیدنقصان پہنچانے کی دھمکیاں دے رہاہے

جب ہم تھانے میں جاتے ہیں توتفتیشی مقدمہ سب اسپکٹرمحمداسلم ہمیں ملزم پارٹی سے کچھ لے دے کرصلح صفائی کرنے کامشوردیتاہے

انہوں نے بتایاکہ تھانہ صدرپولیس جان بوجھ کرزیادتی کے ملزم کی سرپرستی کررہی ہے اورابھی تک پولیس نے سنگین نوعیت کے مقدمہ میں ڈی این اے کے لیے بھی کوئی سیمپل لیبارٹری روانہ نہیں کیے ہیں

جس سے تفتیشی مقدمہ کی ملزم پارٹی سے سازبازصاف ظاہرہوتی ہے متاثرہ مسیحی فیملی نے ڈی پی او رحیم یارخان اخترفاروق، آرپی اوبہاولپور، آئی جی پنجاب اوروزیراعلیٰ پنجاب سے واقعہ کانوٹس لینے اورانصاف مہیاکرنے کامطالبہ کیاہے۔

اک نظر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button