بڑھتی حلال گوشت مارکیٹ پاکستان کے لیے سنہری موقع

محمد کامران[email protected]

بڑھتی حلال گوشت مارکیٹ پاکستان کے لیے سنہری موقع

اسلام نے مسلمانوں کو حلال و حرام کے مابین تمیز کرنا سکھایا ہے۔ پاکی اور ناپاکی کا تصور دیا ہے۔ خواہ وہ ممعلات ہوں یا انسانی خوارک۔

دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مذہب دین اسلام ہے۔
آبادی کے لحاظ سے بھی مسلمان آبادی دنیا کے باقی مذاہب کی نسبت سالانہ دو گنا زیادہ بڑھتی ہے۔ تازہ ترین سروے کے مطابق اس وقت پوری دنیا میں ایک کروڑ نوے لاکھ مسلمان آباد ہیں. جو کے دنیا کی آبادی کا تقریباً پچس فیصد بنتے ہیں۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ 2030ء تک مسلمان آبادی دو ارب تیس کروڑ سے بھی بڑھ جائے گی جو کہ اس وقت دنیا کی تیس فیصد آبادی ہوگی۔

پوری دنیا میں ایک سادہ تھیوری مشہور یے کہ انسانی آبادی میں اضافے کا براہ راست تعلق خوراک اور ضرویات سے ہوتا ہے۔اسی طرح جیسے جیسے مسلم آبادی بڑھ رہی ہے اس کی خوراک کی ضرویات میں بھی دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔خاص کر حلال گوشت کی طلب میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے ۔

اس وقت حلال گوشت کی عالمی تجارت کا حجم تین ٹریلین امریکی ڈالر ہے جو 2030ء میں بڑھ کر 3.2 ٹرلین امریکی ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

حلال گوشت کی بڑھتی ہوئی طلب کسی بھی مسلم ترقی پذیر ملک کے لیے ترقی یافتہ بننے کا ایک سنہری موقع ہے۔

پاکستانی اپکسرٹس کا دعوی ہے کہ پاکستان حلال گوشت کی فروخت سے سالانہ پچاس ارب اور حج کے قربانی کے جانور کو درآمد کر کے چالیس ارب کما سکتا ہے. پاکستان اگر اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتا یے تو حکومت کو درج ذیل اقدامات کرنے ہونگے:-

* حلال گوشت کی پیداوار بڑھانا ہوگی۔

*اپنی تمام تر توجہ اپنی دیہی آبادی پر مرکوز کرنا ہوگی تاکہ ان میں مویشی پالنے کا رجحان بڑھے۔

*حکومت پاکستان کو مادہ اور کم عمر نر مویشیوں کے ذبح پر پابندی لگانا ہوگی۔

*تمام تر برآمدی ادارے متحرک کرنا ہوں گے۔

*چائنا’ ترکی’ ملائشیا’ وسطی ایشیائی ریاستوں اور زیادہ آبادی والے دوسرے ممالک سے تعلقات پر خصوصی توجہ دینا ہوگی, جہاں حلال گوشت کی طلب زیادہ ہوتی ہے۔ تاکہ درآمدات کو بڑھایا جاسکے.

*تمام سفیروں کو ٹاسک دینا ہوں گے کہ وہ درآمدات بڑھانے کے لیے ئماشیں، سیمنار اور دوسرے کاروباری اجتماعات کروائے۔

*مویشوں کی درآمد پر ٹیکس کو کم کرنا ہو گا۔

*مویشوں کی اسمگلنگ روکنی ہوگی۔

اگر حکومت وقت یہ تمام تر اقدام اٹھا لے تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کی معیشت کو مظبوط ہونے سے روک نہیں سکتی۔
لیکن بات وہی ہے ہمارے حکمران ذاتی اور سیاسی مفاد سے نکل کر ملکی مفاد کو سوچے تب ہی یہ سب ممکن ہو۔
اللہ رب العالمین ہمارے حکمرانوں کو ہدایت دیں. آمین

rahimyarkhan

اک نظر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button