رحیم یارخان میں ہندو برادری کے 5افراد کو تیز دھار آلے سے قتل,وزیر اعلٰی کا نوٹس

رحیم یارخان میں قتل کی لرزہ خیز واردات میں 5افراد جابحق

پولیس ترجمان جنوبی پنجاب وسیم یوسف کے مطابق چک135پی ،پتن منارہ کے قریب گھر کے ایک کمرہ میں خاتون اور 3بچوں کی لاشیں برآمد ہوئی جبکہ ایک زخمی شخص کو ہسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی گئی جو زخموںکی تاب نہ لاتےہوئے راستے میں ہی دم توڑ گیا ،

واقع کی اطلاع ملتے ہیں متعلقہ تھانے کی پولیس بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئی ۔

رام چند کی بہن
رام چند کی بہن

رام چند کے خاندان کے قتل کی اطلاع پر علاقہ میں کہرام مچ گیا ،رام چندکی بہن کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات 8بجے میرا بھائی دے سے رابطہ ہوا تھا وہ اپنی درزی کی دکان پر کام کررہا تھا ،

درشن لال
درشن لال

علاقہ مکین درشن لعل کا کہنا تھا کہ رام چند خوش اخلاق اور سب سے ملنے جلنے والا انسان تھا ،

رام چند کی درزی کی دکان

پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق درزی کا کام کرنے والا رام چند نے تیز دھارآلے سے اپنی بیوی لچھی مائی اور 3بچوں پریم کمار ولد رام چند عمر 12سال،انجلی دختر رام چند 10سال، انیکہ مائی عمر 5سال کو قتل کرکے خودکشی کرلی,مرنے والے تمام افراد کو تعلق مینگوال براری سے تھا ۔

crime scene
کرائم سین

پولیس نے جائے وقوعہ کو کاشن پٹی لگا کر سیل کر دیا ۔

کیپٹن ر ظفر اقبال اعوان ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس جنوبی پنجاب نے رحیم یار خان میں ہندو فیملی کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے ،آر پی او بہاولپور اور ڈی پی او رحیم یار خان سے فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ  افسوسناک واقعے کی مکمل جانچ کے بعد تمام حقائق فوری سامنے لائے جائیں۔پولیس جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ہر پہلو سے واقعے کی تحقیقات کرے۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے بھی رحیم یار خان کے علاقے پتن منارہ روڈ پر5افراد کے قتل کے واقعہ کاسخت نوٹس لیے ہوئےانسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کی اور مقتولین کے لواحقین کو ہر قیمت پر انصاف کی فراہم اورمدد کی یقین دہانی کروائی گئی

 

اک نظر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button