رحیم یارخان مندر حملہ کیس,قومی اسمبلی میں قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔

رحیم یارخان مندر حملہ کیس

قومی اسمبلی نے رحیم یار خان میں مندر  پر ہونے والے حملے کے خلاف پیش کی گئی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔

وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کی گئی قرار داد کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔

علی محمد خان کا ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمیں بحیثیت مسلمان اور انسان اس واقعے پر دکھ ہے، جس نے یہ واقعہ کیا اس کا اسلام کیا انسانیت سے بھی رشتہ نہیں ہے، علماء نے بھی اس واقعے کی مذمت کی، اس معاملے پر ہم سب ایک ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم تو خود بابری مسجد کو رو رہے ہیں، ہم تو خود اس کے ستائے ہوئے ہیں، وزیراعظم، حکومت اور پورا ایوان ہندو برادری کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے، جب بھی ایسا واقعہ ہوا ہے حکومت نے اس کے خلاف کارروائی کی ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ مندر یا مسیحی عبادت گاہ کو نقصان پہنچایا جائے تو ہماری سپریم کورٹ، حکومت اور پارلیمنٹ اقلیت کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے جبکہ بھارت میں سپریم کورٹ اور مودی حکومت اقلیت کے خلاف کھڑی ہوتی ہے، یہی فرق ہے بھارت اور پاکستان میں۔

علی محمد خان نے کہا کہ اس دکھ میں ایوان ہندو برادری کے ساتھ کھڑا ہے، وزیراعظم نے واقعے کی مذمت کی اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہچانے کی ہدایت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان اقلیت کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، ایوان اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا عزم کرتا ہے اور ہندو برادری کو تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرواتے ہیں۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے بھی رحیم یار خان میں مندر پر حملہ کرنے والے ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کرنے اور مندر کی تعمیر اور مرمت پر آنے والے اخراجات ملزمان سے ادا کروانے کا حکم دیا ہے۔

اک نظر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button